جمعرات 3 رمضان 1442ﻫ - 15 اپریل 2021

سعودی وزارت حج و عمرہ کا اعلان

سعودی وزارت حج و عمرہ نے اس سال یعنی 1441ھ کے حج کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے… جس کے مطابق ”دنیا کے 180سے زیادہ ممالک میں کورونا وائرس (کووڈ19) پھیل جانے کی وجہ سے اب تک پوری دنیا میں پانچ لاکھ اموات ہوچکی ہیں… جبکہ 70لاکھ سے زیادہ افراد اس سے متاثر ہوچکے ہیں… اس وبائی مرض کے مسلسل خطرات’ متاثرہ افراد کے لئے کسی ویکسین یا علاج کے دستیاب نہ ہونے اور عالمی سطح پر ادارہ صحت کی جاری کردہ رپورٹوں کے مطابق زیادہ تر ممالک میں۔۔۔ وباء کی شرح بڑھتی جارہی ہے’ نیز انسانی آبادی میں جہاں افراد کے بیچ محفوظ دوری بنانا مشکل ہے’ وباء پھیلنے کی سنگینی کی وجہ سے مملکت سعودی عرب نے بیت اللہ کے مہمانوں اور مسجد نبویۖ کے زائرین کو صحت اور امن و سلامتی کے ساتھ۔۔۔ حج و عمرہ کی ادائیگی کرانے کے حوالے سے اپنی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے کورونا وائرس کے۔۔۔ آغاز سے اور کچھ ممالک میں وباء منتقل ہونے کے فوراً بعد سے ہی اللہ کے مہمانوں کی حفاظت کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کیں۔ جس کے نتیجے میں عازمین عمرہ کی آمد کو معطل کیا گیا اور مقدس سرزمین میں موجود عازمین پر ہی اکتفا کیا گیا….سعودی وزارت حج کے بیان کے مطابق چونکہ کورونا وائرس کی تباہ کاریاں۔۔۔ ابھی تک جاری ہیں’ انسانی ہجوم و اجتماعات میں بیماری کے پھیلنے کی سنگینی اور ممالک کے مابین نقل و حرکت نیز عالمی سطح پر بیماری کی شرح میں اضافے کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس سال 1441ھ کے حج میں مملکت میں۔۔۔ موجود مختلف قومیتوں کے افراد بہت ہی محدود تعداد میں شریک ہوں گئے…اس فیصلہ کا مقصد فریضہ حج کو پرامن اور صحت مند طریقے سے قائم کرنا ہے’ جس میں انسانی جان کی حفاظت کے حوالے سے شریعت اسلامیہ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے موجودہ وباء کے خطرات سے۔۔۔ انسان کی حفاظت و سلامتی کو یقینی بنانے کی خاطر ضروری سماجی دوری کا پورا خیال رکھا جائے گا۔
اس پورے بیان کا لب لباب یہ کہ اس مرتبہ فریضہ حج ادا تو ہوگا مگر اس میں شریک صرف سعودی عرب میں۔۔۔ مقیم مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان ہی ہوسکیں گئے اور وہ بھی محدود پیمانے پر’ خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی حکومت کو اگر اس سال فریضہ حج کی ادائیگی کے حوالے۔۔۔ سے یہ مشکل ترین فیصلہ کرنا پڑا تو یقینا اس کی کچھ وجوہات ہی رہی ہوں گی…ورنہ جاننے والے جانتے ہیں کہ دنیا بھر سے فریضہ حج و عمرہ کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب جانے والوں کی وجہ سے سعودی معیشت کو سنبھالا ملتا ہے’ اس میں کوئی شک نہیں کہ کورونا وائرس کی وباء نے پوری دنیا کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔
پاکستانی میڈیا یہاں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی یومیہ بنیادوں پر تعداد کبھی 70′ کبھی 80′ کبھی سو اور کبھی ڈیڈھ سو تک بتلا رہا ہے’ ذیقعدہ کا مہینہ شروع ہوچکا ہے’ اگلا مہینہ ذوالحجہ کا ہے ‘ جس کو حج کا مہینہ بھی کہتے ہیں… اگر تمام قسم کی سازشی تھیوریوں کو ذہن سے جھٹک کر حج کے حوالے سے سعودی حکومت کے فیصلے کا جائزہ لیا جائے تو اگر کسی۔۔۔ کو اس فیصلے پر اعتراض ہے۔۔۔ تو اس سے میرا سوال یہ ہوگا کہ خطرناک وبائی صورتحال کے تناظر میں اگر سعودی حکومت یہ فیصلہ نہ کرتی تو پھر کیا کرتی؟
حج’ اسلام کا عظیم الشان رکن ہے’ اسلام کی تکمیل کا اعلان حجتہ الوداع کے موقع پر ہوا… اور حج ہی سے ارکان اسلام کی تکمیل ہوتی ہے’ حضرت مولانا منظور نعمانی لکھتے ہیں کہ ”ایک معین اور مقررہ وقت پر اللہ تعالیٰ کے دیوانوں کی طرح اس کے دربار میں حاضر ہونا اور اس کے خلیل حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کی ادائوں اور طور طریقوں کی نقل کرکے… ان کے سلسلے اور مسلک سے اپنی وابستگی اور وفاداری کا ثبوت دینا… اور اپنی استعداد کے بقدر ابراہیمی جذبات اور کیفیات سے حصہ لینا… اور اپنے آپ کو ان کے رنگ میں رنگنا ”حج” کا حسن کہلاتا ہے۔”
حج ایک ایسی عاشقانہ عبادت ہے… کہ سلے کپڑوں کی بجائے ایک کفن نما لباس پہن لینا’ ننگے سر رہنا’ حجامت نہ بنوانا’ ناخن نہ تراشنا’ بالوں میں کنگا نہ کرنا’ تیل اور خوشبو کا استعمال نہ کرنا’ میل کچیل سے جسم کی صفائی نہ کرنا’ والہانہ انداز میں لبیک اللھم لبیک کی صدائیں لگانا’ بیت اللہ کے گرد چکر لگانا’ اس کے ایک گوشے میں لگے ہوئے سیاہ پتھر (حجراسود) کو چومنا… اور اس کے در و دیوار سے لپٹنا اور آہ و زاری کرنا’ پھر صفا و مروہ کے پھیرے لگانا’ پھر مکہ شہر سے بھی نکل جانا اور کبھی منیٰ’ کبھی عرفات اور کبھی مزدلفہ کے صحرائوں میں جا پڑنا’ پھر جمرات پہ بار بار کنکریاں مارنا’ یہ سارے اعمال وہی ہیں… جو محبت کے دیوانوں’ فرزانوں اور مستانوں سے سرزد ہوا کرتے ہیں۔
جناب ابراہیم علیہ السلام گویا اس رسم عاشقی کے بانی ہیں… ہر سال لاکھوں فرزندان توحید بیک زبان ہو کر جب لبیک اللھم لبیک کا ترانہ پڑھتے ہیں تو فضائوں پر بھی وجد طاری ہو جاتا ہے… ہماری بداعمالیوں کے سبب اللہ ہم سے ناراض ہے … اب بھی وقت ہے… ہم سب کو بحیثیت امت مسلمہ توبہ و تائب ہو کر اپنے مالک حقیقی کو راضی کرلینا چاہیے’ آئیے مل کر دعا کریں کہ… اے اللہ ہماری بداعمالیوں اور گناہوں کے سبب اپنے گھر یعنی بیت اللہ اور دیگر مساجد کے دروازے ہم پر بند نہ فرما۔ (آمین)

یہ بھی دیکھیں

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کینسر کے مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی کیلئے فنڈز کے اجراء کی منظوری دے دی

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کینسر کے مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے