منگل 29 رمضان 1442ﻫ - 11 مئی 2021

مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کیلئے مودی حکومت کا ایک اور اقدام 

مقبوضہ کشمیر میں نریندر مودی کی فسطائی حکومت نے مقبوضہ علاقے کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے اپنے مذموم منصوبے کو آگے بڑھانے کے لئے ایک اور غیر قانونی اقدام کیا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں ”ایک قوم ایک راشن کارڈ“ اسکیم شروع کی۔ اس اسکیم کے تحت مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ہندوؤں کو راشن کارڈ جاری کیے جائیں گے تاکہ انہیں مقبوضہ علاقے کا شہری ظاہر کیا جا سکے۔ ابتدائی مرحلے میں اس اسکیم کا آغاز صرف دو سرکاری راشن ڈپوﺅں پرکیاگیا ہے ۔ مودی حکومت رواں سال اگست تک اس اسکیم پر پورے مقبوضہ کشمیرمیں عمل درآمد کرنا چاہتی ہے ۔مقبوضہ کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر فاروق خان نے جموں کے علاقے بھاگوتی نگر میں اس اسکیم کا آغاز کیا اور بھارتی ریاستوں مدھیہ پردیش اور اترپردیش سے تعلق رکھنے والے مزدوروں میں سرکاری راشن کارڈ تقسیم کیے۔اس اسکیم کا اعلان مودی حکومت نے گذشتہ سال کیا تھا ، لیکن گزشتہ سال 05 اگست کو جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی ، لاک ڈاﺅن اور مارچ میں مقبوضہ علاقے میں کوروناوائرس پھیلنے کے بعد پابندیوں میں مزید شدت آنے کے بعد اس پر عمل درآمد نہیں کیا جاسکا۔

یہ بھی دیکھیں

وزیراعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ کا کورونا وائرس کی صورتحال سے متعلق بیان۔ 

وزیراعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ کا کورونا وائرس کی صورتحال سے متعلق بیان۔ گزشتہ 24 …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے