ہفتہ 10 ربیع الاول 1443ﻫ - 16 اکتوبر 2021

 پچیس یورپی ممالک کے ایک ہزار سے زائد ارکان پارلیمنٹ نے غرب اردن کو اپنی خودمختاری میں شامل کرنے کا اسرائیلی منصوبہ مسترد کر دیا۔

یورپی پارلیمنٹ کے 1080 ارکان نے ایک خط پر دستخط کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی منصوبے کا جواب دینے کے لیے ٹھوس اقدام کیا جائے۔

ارکان پارلیمنٹ نے غرب اردن کے علاقوں کو اپنی خودمختاری میں شامل کرنے سے متعلق اسرائیلی فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بین الاقوامی تعلقات میں خطرناک نظیر قائم ہو گی۔

یورپی ارکان پارلیمنٹ کا یہ پیغام یورپی اخبارات میں شائع ہوا ہے اور اسے یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ کو بھیجا گیا ہے۔

یورپی ارکان پارلیمنٹ نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے اقدام سے فلسطین اسرائیل امن عمل کا ماحول ختم ہو جائے گا اور اقوام متحدہ کے منشور سمیت بین الاقوامی تعلقات کو منظم کرنے والے بنیادی اصول تباہ ہو جائیں گے۔

ارکان پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا منصوبہ متفقہ بین الاقوامی ضابطوں اور مقررہ اصولوں کے منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک کو غرب اردن کے علاقے اسرائیلی خودمختاری میں شامل کرنے سے روکنے کے لیے تمام بین الاقوامی فریقوں کو آگے بڑھ کر متحرک کرنا ہو گا۔

یورپی یونین اسرائیل کو اس اقدام سے باز رکھنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اسی کے ساتھ یورپی یونین، اسرائیل وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کی جانب سے اپنی سکیم پر عمل درآمد کی صورت میں جوابی کارروائی کی تجویز پر غور کر رہی ہے تاہم اسرائیل کے خلاف ممکنہ پابندیوں کا فیصلہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جبکہ یونین کے تمام رکن 27 ممالک اس کی منظوری دیں۔

دریں اثناء اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ غرب اردن میں اسرائیلی بستیوں کو اپنی خودمختاری میں شامل کرنے کی سکیموں سے دستبردار ہو جائے۔

سیکریٹری جنرل نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے خودمختاری میں شمولیت کے فیصلے پر عمل کیا تو یہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی شمار ہو گی اور اس سے دو ریاستی حل کے فارمولے کو نقصان پہنچے گا۔ اس سے امن مذاکرات کے احیاء کے امکانات معدوم ہو جائیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا حکم۔ 

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے