ہفتہ 10 ربیع الاول 1443ﻫ - 16 اکتوبر 2021

5000 بھارتی شہریوں کو مقبوضہ کشمیر کے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ دینے پر پاکستان کا ردعمل آ گیا

بھارت کی طرف سے 25000 بھارتی شہریوں کو مقبوضہ کشمیر کے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ دینے پر پاکستان کا ردعمل آ گیا
پاکستان نے بھارتی حکام کی جانب سے 25000 بھارتی شہریوں کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ دینے کو یکسر مسترد کردیا ہے۔

جموں و کشمیر گرانٹ آف ڈومیسائل سرٹیفکیٹ (ضابطہ اخلاق) ، 2020″ کے تحت بھارتی سرکاری حکام سمیت غیر کشمیریوں کو جاری کردہ سرٹیفکیٹ غیر قانونی ، جعلی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں ،بین الاقوامی قوانین اور چوتھے جنیوا کنونشن کی سرا سرخلاف ورزی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے بھارتی حکام کی جانب سے پچیس ہزار سے زائد بھارتی شہریوں کو مقبوضہ کشمیر کے سرٹیفیکٹ دینے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری بھارت کو مقبوضہ کشمیر کے متنازعہ علاقے میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی سے روکنے کیلئے فوری مداخلت کریں جہاں بھارت نے گزشتہ کئی دہائیوں سے غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ عالمی برادری بھارت پر زور دے کہ وہ غیر کشمیریوں کو جاری کردہ تمام ڈومیسائل فوری طور پر منسوخ کرے اور بھارت کو متعلقہ یو این ایس سی کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں پر عملدرآمد کا پابند بنایا جائے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہاکہ تازہ ترین اقدام پاکستان کے اس موقف کا واضح ثبوت ہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کا مقصد مقبوضہ کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کیا جائے اور کشمیریوں کو ان کی اپنی سرزمین میں اقلیت میں تبدیل کیا جائے،جو آر ایس ایس-بی جے پی کے “ہندوتوا” ایجنڈے کا دیرینہ حصہ رہا ہے۔

دفتر خارج کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرکے بھارتی حکومت اقوام متحدہ کے متعلقہ قراردادوں کے مطابق اقوام متحدہ کے زیراہتمام ایک آزاد اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے کشمیری عوام کو حق خودارادیت کے استعمال سے محروم کرنا چاہتی ہے۔ مسلسل پابندیوں ، فوجی کریک ڈاون ، ماورائے عدالت قتل ، نظربندیاں ، اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے بھارت مقبوضہ کشمیر پر اپنے غیر قانونی قبضے کو مزید مستقل کر سکتا ہے اور نہ ہی غیور کشمیری عوام کے حوصلوں کو کمزور کر سکتا ہے۔

بھارت کی ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے جموں و کشمیر کیڈر کے ایک سینئر آئی اے ایس افسر نوین کمار چودھری انتظامی خدمات کے افسران سے جموں وکشمیر کے پہلے مستقل رہائشی بن گئے

نوین کمار چودھری کو ڈومیسائل سرٹیفکٹ جموں خطے کے گاندھی نگر کے تحصیلدار نے جاری کیا ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق نوین چودھری ریاست بہار کے رہنے والے ہیں اور وہ گزشتہ 15 برس سے زائد عرصے سے جموں و کشمیر میں تعینات ہیں اور اس وقت محکمہ زراعت اور باغبانی کے پرنسپل سکریٹری کے عہدے پر تعینات ہیں۔

گزشتہ برس پانچ اگست دفعہ 370 اور 35 اے کے خاتمے کے بعد بی جے پی نے جموں و کشمیر کا مستقل رہائشی نظام ختم کرکے ملک کے کسی بھی شہری کے لیے مقبوضہ جموں و کشمیر کا مستقل رہائشی بننے کی راہ ہموار کی تھی۔اس سے قبل دفعہ 34 اے کے تحت فقظ جموں و کشمیر کے باشندوں کو یہ حق حاصل تھا۔

نئے قوانین کے مطابق ملک کے کسی بھی شہری جس نے جموں و کشمیر میں 15 برس سے سرکاری یا کسی نجی ادارے میں کام کیا ہو، یا اس کے کسی بچے کو یہاں کے اسکول کی سند ہو وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کا ڈومیسائل حاصل کر سکتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا حکم۔ 

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے