ہفتہ 22 ربیع الثانی 1443ﻫ - 27 نومبر 2021

عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں مصنوعی ڈیموگرافک تبدیلیاں لانے کی بھارتی سازش کے خلاف راست اقدام کرے. شہریار خان آفریدی

عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں مصنوعی ڈیموگرافک تبدیلیاں لانے کی بھارتی سازش کے خلاف راست اقدام کرے. چئیرمین کشمیر کمیٹی شہریار خان آفریدی کا بیان

اسلام آباد. چیئرمین خصوصی پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر شہریار خان آفریدی نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں غیر مقیم ہندوستانی شہریوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کرنے پر مودی حکومت پر سخت تنقید کا اظہار کیا اور اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ عالمی قوانین، خصوصاً چوتھے جینیوا کنوینشن کی خلاف ورزی میں جموں وکشمیر میں مصنوعی ڈیموگرافک تبدیلیاں لانے پر مودی سرکار کے خلاف آواز بلند کریں۔

اتوار کے روز یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں شہریار آفریدی نے کہا کہ غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل دینے کے کا مقصد مقبوضہ علاقے کی آبادیاتی حیثیت کو تبدیل کرنا ہے کیونکہ غیر کشمیری ہندوستانیوں کو مقبوضہ کشمیر میں شہریت خطے میں مسلمانوں کی اکثریت مصنوعی طریقے سے کم کرنے کے لئے دی جارہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ مسئلہ کشمیر پہلے ہی رائے شماری کے لئے اقوامِ متحدہ میں موجود تھا تو جموں وکشمیر میں بندوق کے زور پر کوئی آبادیاتی تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ ہندو فاشسٹ بھارتی حکومت ہندوتوا بالادستی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے کرونا وائرس کی آڑ میں کشمیر کے مسئلے سے بین الاقوامی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔

آفریدی نے کہا کہ کشمیر سے متعلق تمام ہندوستانی بیانیہ غلط ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بھارتی اقدامات سے یہ ثابت ہوگیا کہ ہندوستان کبھی بھی جمہوریت نہیں تھا۔ یہ جمہوریت کے تصور کو استعمال کرتے ہوئے ایک فاشسٹ نوآبادیاتی ریاست ہے۔ بھارتی فاشسٹ حکومت اب نہ صرف کشمیری مسلمانوں کو اپنے گھروں میں قتل اور قید کررہی ہے بلکہ قوانین میں تبدیلیوں کے زریعے معاشی آبادی سے متعلق اقدامات کے ذریعہ کشمیریوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔ کشمیریوں کی اکثریت کا مصنوعی طور پر خاتمہ کیا جارہا ہے، اور ہزاروں میل دور سے غیر کشمیری افراد کو قانوناً کشمیری درجہ دینے کیلئے جموں وکشمیر لایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستانی ریاست کو اب ایک عام یا محض غیر فعال ریاست کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ ایک فاشسٹ ٹولہ بھارت میں حکمران ہے اور عالمی برادری کو قابض بھارتی افواج کو کشمیر سے نکالنا ہوگا۔ کشمیر سے ہندوستانی افواج کے مکمل اخراج کے سِوا اب کوئی حل ممکن نہیں ہے۔ اور یہ ہر انسان کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ جموں وکشمیر کو ہندوستانی قبضے سے آزادی کے جواز کی حمایت کرے۔

شہریار آفریدی نے کہا کہ دنیا میں کہیں بھی اس طرح کی ڈیموگرافک تبدیلی کج کوشش نہیں کی گئی ہے مگر کشمیری مسلمانوں کی جاری نسل کشی کا مقصد کشمیریوں کا خاتمہ ہے کیونکہ ہندوستان میں جموں وکشمیر واحد مسلم اکثریتی ریاست ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اُس دور میں نہیں جی رہے جب زمینوں کو فتح کیا جاتا تھا اور لوگوں کو غلام بنایا جاتا تھا۔ لیکن 2020 میں کشمیر موجود کشمیریوں کے ساتھ اس سے بھی بدتر سلوک ہو رہا ہے۔

شہریار آفریدی نے اقوام متحدہ اور عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیر میں اقوام متحدہ کے خود ارادیت کیلئے رائے شماری کرائیں کیونکہ بھارت ہی مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے کر گیا تھا اور اس تنازعہ کا فیصلہ کرنے کے لئے رائے شماری کا وعدہ کیا تھا.

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا حکم۔ 

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے