جمعرات 14 ذوالقعدہ 1442ﻫ - 24 جون 2021

پاکستانی امریکن پولیس آفیسر کا NYPD پر لاکھوں ڈالر ہرجانے کا دعوی: امتیازی سلوک اور مذہبی تعصب کا الزام

نیویارک (خصوصی رپورٹ) نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ایک پاکستانی امریکن مسلم پولیس افسر نے سالوں سے امتیازی سلوک برتنے، گندی جگہ پر نماز پڑھنے پر مجبور کرنے اور جرائم کے اعداد وشمار پر مشتمل کتاب جلانے والے پولیس افسروں کی شکایت پر سزا دئیے جانے پر NYPD پر 5 ملین ڈالر ہرجانے کا دعوی دائر کرنے کا اعلان کیا ہے.سٹی میں دائر نوٹس آف کلیم میں نوجوان پولیس افسر عمر عالم نے کہا ہے کہ اسے کئی سال سے امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جارہا ہے اسے گزشتہ سال ایک مرتبہ ایسے سیل میں نماز پڑھنے پر مجبور کیا گیا جو غلاظت سے آٹا پڑاتھا.عمر عالم نے اپنی شکایت میں یہ بھی کہا ہے کہ 31 جنوری 2019 میں قیدیوں کی نگرانی کے دوران اسکے سپر وائز ر نے اس کا لنچ بریک کم کرکے محض 20 منٹ دورانیہ کردیاکلیم کے مطابق جب عمر عالم نے لیفٹننٹ مائیکل اورینہ سے 10 منٹ کے لئے نماز پڑھنے کی اجازت مانگی تو اسے کہا گیا کہ وہ اندر جاکر سیل میں نمازادا کرسکتا ہے جو غلاظت سے اٹاپڑا تھا.عمر عالم کا کہنا ہے کہ سیل کے اندر ٹوائلٹ ٹوٹا ھوا تھا گندگی اور کے ڈھیر تھے.انہوں نے کہا کہ انکے سپروائزر نے انکے لنچ کا ٹائم کم کیا انکے مذہب کی توہین کی.مگر میں صبر و تحمل کے ساتھ اپنا کام کرتا رہا.پاکستانی امریکن افسر نے مذید کہا کہ 2011 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں ایک جاب کے انٹرویو کے لئے ان کا انٹرویو اچانک انسپکٹر نے اس اشتعال انگیز ریمارکس کے ساتھ ختم کردیا کہ “ اوہ تم ان میں سے ہی ایک تھے” انسپکٹر کا اشارہ ان کی داڑھی کی جانب تھا اور سانحہ نائن الیون کا حوالہ دینا مقصود تھا. پاکستانی امریکن افسر نے اسے تعصب اور امتیازی روئیے کی بدترین مثال قرار دیا.عمر عالم نے 2008 میں NYPD میں شمولیت اختیار کی تھی. انہوں نے اپنی شکایت میں ایک اور واقعہ کی نشاندہی کی جسکے مطابق انہوں نے ایک ڈکیتی کی نشاندہی کی تھی مگر ان کی بات کو نظر انداز کردیا گیا.افسر کا کہنا ہےکہ جب ڈکیتی کے متاثرہ شخص نے ان سے رابطہ کیا اور اپنے کیس کے سٹیٹس کے بارے میں پوچھا تو عمر عالم نے انکوائری کی جس سے معلوم ہوا کہ ایسی کوئی رپورٹ پولیس کے اعداد وشمار میں درج ہی نہیں ہے.جب عمر نے انٹرنل افئیرز کو شکایت کی تو انکے سپروائزر نے ان سے کہا کہ اگر آئندہ ایسا کوئی واقعہ درپیش ھوا تو وہ انہیں(سپروائزر) یا اپنے کسی سارجنٹ سے رابطہ کریں کسی دوسرے یونٹ کو اس کی رپورٹ نہ کریں.انہیں بعدازاں پریسنٹ 5 میں نائیٹ شفٹ میں ٹرانسفر کردیا گیا.جو غالبا عمر عالم کی شکایت کا انتقامی ردعمل ھوسکتا ہے.عمر کے مطابق اسکے سپروائزر نے اس بیوقوف بھی کہا.انہوں نے آفس برائے یکساں مواقع( Office Of Equal Opportunity)میں بھی شکایت کی کہ ترقی اور ٹرانسفر کی کئی درخواستوں کے باوجود انکی شنوائی نہیں ہوسکی.عمر عالم کے وکیل جان سکولا کا کہنا ہے کہ انکے کلائنٹ کی درخواستوں پر اسلئے عملدارآمد نہیں ہوا کہ وہ مسلمان ہیں اور یہ تعصب کی بدترین مثال ہے.

یہ بھی دیکھیں

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام مذہبی امور

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے