جمعرات 15 ربیع الاول 1443ﻫ - 21 اکتوبر 2021

مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاﺅن کی وجہ سے 77 فیصد بچے حفاظتی ٹیکوں جیسی بنیادی ضرورت سے محروم

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں قائم ایک غیر سرکاری تنظیم نے جو بچوں کے حقوق پر کام کررہی ہے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری لاک ڈاؤن کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے77فیصد بچوں کو حفاظتی ٹیکوں جیسی بنیادی ضروریات تک رسائی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق این جی او ”چائلڈ رائٹس اینڈ یو “ نے نئی دہلی میں ایک بیان میں ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ جموں و کشمیر میں لاک ڈاؤن کے پہلے اور دوسرے مرحلے میں بچوں پر کورونا وائرس کے اثرات کے بارے میں تحقیق کی گئی جو والدین اور بنیادی دیکھ بھال کرنے والے افراد کے ردعمل پر مبنی تھی۔بیان میں کہاگیا کہ جموں و کشمیر سے کل 387 افراد نے اس تحقیق میں حصہ لیا۔چائلڈ رائٹس اینڈ یو نے کہاکہ جموں وکشمیر میں لاک ڈاؤن کے دوران صفرسے پانچ سال تک کی عمر کے77 فیصدبچے حفاظتی ٹیکوں جیسی بنیادی صحت کی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں کرسکے۔این جی او نے کہا اگرچہ پورے بھارت میں لاک ڈاو ¿ن کے دوران حفاظتی ٹیکوں کے پروگراموں کو ایک بڑا دھچکا لگا تاہم تشویشناک بات یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں یہ تعداد کافی زیادہ ہے جہاں پانچ سال سے کم عمر کے 77.14 فیصد بچے حفاظتی ٹیکوں کی خدمات حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔تحقیق کے مطابق جموں و کشمیر میں تقریبا 35 فیصد افراد نے بتایا کہ ان کے بچوں کو لاک ڈاؤن کے دوران طبی امداد نہیں ملی جس کی وجہ سے ان کے بچوں کی بیماریوں اور صحت کے خطرات سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

وزیراعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ کا کورونا وائرس کی صورتحال سے متعلق بیان۔ 

وزیراعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ کا کورونا وائرس کی صورتحال سے متعلق بیان۔ گزشتہ 24 …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے