ہفتہ 14 ذوالحجہ 1442ﻫ - 24 جولائی 2021

کشمیر: نانا کی لاش پر بیٹھے روتے بلکتے بچے نے دنیا کو لرزا دیا

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے شمالی ضلع بارہ مولہ کے ماڈل ٹاؤن سوپور میں بدھ کی صبح بھارتی نیم فوجی سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف)کے اہلکاروں اور عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک راہ چلتا عام شہری مارا گیا، جبکہ ان کا تین سالہ نواسہ معجزاتی طور پر بچ گیا۔
دو طرفہ فائرنگ سے قبل عسکریت پسندوں کی طرف سے سی آر پی ایف کی ایک ناکہ پارٹی پر کی جانے والی فائرنگ کے نتیجے میں سی آر پی ایف کا ایک اہلکار بھی ہلاک ہوا جبکہ دیگر تین زخمی ہوگئے۔
بدھ کی صبح قریب ساڑھے آٹھ بجے سوپور میں عسکریت پسندوں کے سی آر پی ایف کی ایک ناکہ پارٹی پر اس حملے کی اطلاع ملتے ہی کشمیر پولیس کے اہلکار اور مقامی صحافی جائے وقوع پر پہنچے جہاں انہوں نے دل دہلانے والا منظر دیکھا۔
ایک مقامی صحافی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ‘ہم جب جائے وقوع پر پہنچے تو ہم نے ایک شخص کی خون میں لت پت لاش سڑک کے کنارے دیکھی اور ایک چھوٹے بچے کو اس کے سینے پر بیٹھے روتے بلکتے ہوئے دیکھا۔’
ان کا مزید کہنا تھا: ‘پولیس کے ایک اہلکار نے مذکورہ بچے، جس کے کپڑوں پر خون لگا ہوا تھا، کو اپنے سینے سے لگایا اور اس کو اپنی بانہوں میں اٹھا کر پولیس کی ایک چھوٹی گاڑی میں ڈال کر محفوظ مقام پر منتقل کردیا۔’
سی آر پی ایف کے ترجمان جنید خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ‘ماڈل ٹاؤن سوپور میں بدھ کی صبح عسکریت پسندوں نے 179 بٹالین سی آر پی ایف کی ایک ناکہ پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس میں ہمارا ایک جوان مارا گیا جبکہ دیگر تین زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد کے لیے سری نگر میں قائم فوجی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔’
ان کا مزید کہنا تھا: ‘حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں جنہیں ڈھونڈنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔
سی آر پی ایف کے دوسرے ایک ترجمان پنکج سنگھ سے جب انڈپینڈنٹ اردو نے پوچھا کہ عام شہری کی ہلاکت کیسے واقع ہوئی تو ان کا کہنا تھا: ‘میرے لیے یہ کہنا مشکل ہے۔ آپ کراس فائرنگ لکھ سکتے ہیں’۔
فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہونے والے شہری کی شناخت سری نگر کے مضافاتی علاقے مصطفیٰ کالونی ایچ ایم ٹی کے رہنے والے بشیر احمد خان ولد غلام محمد خان کے نام سے ہوئی ہے۔
مذکورہ شہری کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ بشیر احمد عسکریت پسندوں کی نہیں بلکہ سکیورٹی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بنے۔
ایچ ایم ٹی سے ایک صحافی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ‘ہمیں اہل خانہ سے معلوم ہوا کہ بشیر احمد پیشے کے اعتبار سے ایک ٹھیکے دار تھے۔ وہ اپنے تین سالہ نواسے عیاد جہانگیر کو اپنے ساتھ لے کر سوپور میں تعمیراتی سائٹ پر جارہے تھے۔ اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کو سکیورٹی فورسز نے قتل کیا ہے۔’
ایک ویڈیو میں بشیر احمد کے ایک بیٹے کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے: ‘وہ صبح چھ بجے گھر سے نکلے۔ ان کا سوپور میں کام چل رہا تھا۔ وہاں فائرنگ شروع ہوئی اور سی آر پی ایف نے ان کو گاڑی سے اتار کر مار ڈالا’۔
اس واقعے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہیں اور لوگوں کی جانب سے تبصروں میں بھارتی سکیورٹی فورسز پر تنقید کی جارہی ہے۔
دوسری جانب سوپور پولیس نے سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں عام شہری کے قتل کی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے
اپنے ٹوئٹر پیغام میں سوپور پولیس نے لکھا: ‘ سوشل میڈیا ویب سائٹس پر (پولیس کی جانب سے) ایک عام شہری کو ہلاک کیے جانے کی خبریں مکمل طور پر بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔ سوپور پولیس ان رپورٹس کو مسترد کرتی ہے اور غلط خبریں اور افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔’

یہ بھی دیکھیں

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام مذہبی امور

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے