جمعرات 15 ربیع الاول 1443ﻫ - 21 اکتوبر 2021

چین میں بے بنیاد پروپیگنڈے کی وجہ سے بھارتی اخبارات اور ویب سائٹس بلاک

چین اوربھارت کےدرمیان میجر جنرل سطح کے مذاکراتپندرہ جون کو چینی فوج کے ہاتھوں بھارت کی تذلیل کے بعد چین اور بھارت کے درمیان جاری سرحدی تناؤ کے دوران چین میںبے بنیاد پروپیگنڈے کی وجہ سے بھارتی اخبارات اور ویب سائٹس کو بلاک کردیا گیا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اگرچہ چینی اخبارات اور ویب سائٹیں بھارت میں قابل رسائی ہیں لیکن چین میں لوگ صرف ورچوئل نجی نیٹ ورک سرور کے ذریعے بھارتی میڈیاکی ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ چین نے تکنیکی طور پر ایسی اعلی درجے کی فائر وال تیار کی ہے جو وی پی این کو بھی روک سکتی ہے۔یہ کارروائی 15 جون کو مشرقی لداخ کے علاقے وادی گلوان میں پرتشدد تصادم کے دوران کم از کم 20 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کے بعد بھارت اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران کی گئی ہے۔ چین نے تصادم کے دوران کسی چینی فوجی کے زخمی ہونے سے انکار کیا ہے۔بھارتی میڈیا کی ویب سائٹس پر پابندی عائد کرنے کی چینی کارروائی بھارتی حکومت کی جانب سے ٹک ٹوک ، یوسی براوزر اور دیگر 59 چینی ایپس پر پابندی عائد کرنے کے اقدام سے قبل ہی کی گئی تھی ۔چین میں دنیا کا سب سے جدید سینسرشپ نظام ہے جسے ’گریٹ فائر وال‘ کہا جاتا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق چینی حکومت آئی پی ایڈریس کو مسدود کرنے ، ڈی این ایس کے حملوں اور یوآر ایل کے اندر مخصوص یوآر ایل اور کلیدی الفاظ فلٹر کرنے جیسی تکنیک کے ذریعے میڈیا کو کنٹرول کرتی ہے۔حالیہ تنازعہ لداخ میں چین اوربھارت کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کا نتیجہ ہے

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا حکم۔ 

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے