جمعرات 3 رمضان 1442ﻫ - 15 اپریل 2021

’پب جی‘ کی وجہ سے خودکشیاں، گیم پر عارضی پابندی کا اعلان

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے عارضی طور پر ویڈیو گیم ’پب جی‘ یعنی ’پلیئر ان نون بیٹل گراونڈ‘ پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔
پی ٹی اے کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقوں سے موصول ہونے والی شکایت کے بعد اس ویڈیو گیم کو عارضی طور پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔
پی ٹی اے کے بیان میں کہا گیا کہ عوام سے موصول ہونے والی شکایات میں کہا گیا ہے کہ ’یہ گیم لت کا باعث، وقت کا ضیاع ہے اور اس سے بچوں کی جسمانی اور دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں‘۔
پی ٹی اے کے بیان کے مطابق حال ہی میں ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس گیم کی وجہ سے خود کشیوں کے واقعات پیش آئے ہیں۔ یاد رہے کہ چند روز قبل لاہور پولیس نہ کہا تھا کہ شہر میں دو نوجوانوں نے ویڈیو گیم ‘پب جی’ کھیلنے سے منع کرنے پر خودکشی کر لی ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے ادارے کو اس معاملے پر غور کرنے اور شکایات کو دیکھتے ہوئے اقدامات کرنے کے لیے کہا تھا۔ ادارے کے مطابق اس سلسلے میں نو جولائی کو سماعت کی جائے گی۔
ادارے کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر عوام کی رائے بھی لی جائے گی اور اس مقصد کے لیے پریس ریلیز میں ایک ای میل ایڈریس دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ 24 کو لاہور پولیس کے مطابق شہر میں چار روز میں دو نوجوانوں نے ویڈیو گیم ‘پب جی’ کھیلنے سے منع کرنے پر خودکشی کر لی تھی، جس کے بعد پولیس کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ایسی تمام پُرتشدد گیمز اور آن لائن پیجز کو بلاک کرنے کے لیے پی ٹی اے کو درخواست دی جائے گی۔
اطلاعات کے مطابق لاہور کی ملتان روڈ کے رہائشی، 16 سالہ نوجوان نے خودکشی کا فیصلہ اس وقت کیا جب اس کے والدین نے اسے آن لائن گیم کھیلنے سے منع کیا اور اس نے اپنے آپ کو پنکھے سے لٹکا کر خودکشی کر لی۔
پولیس کے مطابق خودکشی کرنے کے بعد بھی اس کے موبائل پر پب جی گیم چل رہی تھی۔
اس واقع سے دو روز قبل بھی شہر کے ایک اور 20 سالہ نوجوان نے اسی گیم کی وجہ سے اپنے آپ کو پنکھے سے لٹکا کر اپنی جان لے لی تھی۔
ڈی آئی جی آپریشنز اشفاق خان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تشدد کو فروغ دینے والی گیمز کے باعث نوجوانوں میں خودکشی کرنے کا رجحان بڑھنا ایک افسوک ناک اور تشویش ناک عمل ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ گیمز ایک نشے کی طرح ہیں جس کی لت لگ جاتی ہے اس لیے والدین اور بچوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے اوپر اختیار رکھتے ہوئے ایسی گیمز زیادہ نہ کھیلیں۔‏

یہ بھی دیکھیں

کل کی بات ہے وزیر اعظم اوپن بیلٹ کی بات کرتے تھے, رانا ثنا اللہ کی میڈیا سے گفتگو

کل کی بات ہے وزیر اعظم اوپن بیلٹ کی بات کرتے تھے, رانا ثنا اللہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے