منگل 6 شوال 1442ﻫ - 18 مئی 2021

ایس ایچ او اور سپاھی پر ایک ھی الزام کانسٹیبل قصوروار ایس ایچ او بری الذمہ

تھانہ ناظم آباد پر تعینات سابقہ کانسٹیبل ذولفقار عرف زلفی کے خلاف پولیس کی خفیہ ایجنسی رپورٹ ارسال کرتی ھے کہ تھانہ ناظم آباد کی حدود میں چلنے والی منشیات و گٹکا مافیا کی سرپرستی کرتا ھے اور ایس ایچ او کے لیے بیٹ اکٹھی کرتا ھے یعنی ایس ایچ او کی مرضی سے کام چل رھا ھے

اس رپورٹ پر ایس پی لیاقت آباد کو انکوائری دی جاتی ھے جو اپنی انکوائری میں تصدیق کرتے ہیں کہ کانسٹیبل کافی عرصہ سے لیاقت آباد ٹاؤن میں تعینات ھونے کی وجہ سے جرائم کی سرپرستی کرتا ھے لہذا اسکے خلاف کاروائی کی جائے جس پر ڈی آئی جی ویسٹ اسے 4 جون 2020 کو نوکری سے برخاست کا پروانہ جاری کرتے ہیں اور ایس ایچ او ناظم آباد کو کلین چٹ دیتے ہیں کہ اب آپ دوسرے کسی کانسٹیبل کو قربانی کا بکرا بنانے کے لیے تیار کریں کیونکہ آپ ایس ایچ او ھیں آپ جرائم کی سرپرستی کر سکتے ھیں

محکمہ پولیس میں کافی عرصہ سے نچلے طبقے کو سزائیں دی جا رھی ھیں اور افسران کے گھروں کے کچن چلانے والے ایس ایچ او صاحبان کو فری ھینڈ دیا جا رھا ھے اسی دوھرے معیار کی وجہ سے محکمہ میں سخت بے چینی پائی جا رھی ھے ملازمین کنفیوژ ھیں جسکی وجہ سے ویسٹ زون میں کرائم کا ریشو حد سے زیادہ بڑھ گیا ھے شہری انتہائی خوف کی زندگی گزار رھے ہیں گھر سے نکلنے سے پہلے 10 بار سوچتے ھیں

محکمہ پولیس کے اعلی افسران سے گذارش ھے کہ قانون کو یکطرفہ طور پر استعمال نہ کیا جائے کیونکہ مذکورہ کانسٹیبل ذولفقار عرف زلفی جو ایس ایچ او کے لیے بیٹ اکٹھی کرتا تھا اسے تو سزا دیدی گئی مگر جو بیٹ لیتا تھا وہ بری الذمہ کیسے ھو سکتا ھے ایس ایچ او ناظم آباد کے خلاف بھی ایکشن لیا جائے ورنہ انصاف مانند پڑ سکتا ھے

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے