پیر 13 صفر 1443ﻫ - 20 ستمبر 2021

جمال خاشقجی قتل، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا نام بھی قاتلوں میں شامل

ماورائے عدالت پھانسیوں سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر نے معروف صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث افراد کی فہرست میں سعودی عرب کے ولی عہد بن سلمان کا نام بھی شامل کیے جانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
ماورائے عدالت پھانسیوں سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر محترمہ انیس کالامار نے کہا ہے کہ توقع ہے کہ ترکی کا محکمہ انصاف جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث افراد کی دوسری فہرست جاری کرے گا جس میں سعودی ولی عہد کا نام بھی شامل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ترکی میں جمال خاشقجی قتل کیس کی سماعت کے پہلے دن بن سلمان کا نام بارہا گواہوں کی زبانی سنا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی قتل کیس کی کارروائی تمام بیس ملزمان کی غیر موجودگی میں، جمعے سے ترکی میں شروع ہو گئی ہے۔ سعودی صحافی جمال خاشقجی دو اکتوبر دوہزار اٹھارہ کو ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے کے اندار داخل ہونے کے بعد لاپتہ ہو گئے تھے۔
سعودی حکام نے ایک ہفتے کے انکار بعد آخر کار اس بات کا اعتراف کیا تھا انہیں قونصل خانے کے اندر قتل کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا حکم۔ 

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے