ہفتہ 10 ربیع الاول 1443ﻫ - 16 اکتوبر 2021

پاکستان اور چین کی امریکہ کو افغانستان سے جلد بازی میں انخلا پر تنبیہہ

کابل: پاکستان، افغانستان اور چین نے امریکہ کو افغانستان سے فوری طور پر اپنے فوجیوں کو واپس بلانے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دہشت گرد گروہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق تینوں ممالک کے نمائندوں کے درمیاں ویڈیو لنک کے ذریعے منعقدہ ایک اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ تینوں ممالک افغانستان سے مرحلہ وار، ذمہ دارانہ اور شرائط پر مبنی انخلا پر زور دیتے ہیں تا کہ دہشت گردوں کی ممکنہ بحالی سے بچا جاسکے۔
چین افغانستان پاکستان سہ فریقی وزرائے خارجہ کے اسٹریٹیجک مذاکرات کی سربراہی چین نائب وزیر خارجہ لو زاہوئی، افغان نائب وزیر خارجہ میرواعظ نب اور پاکستان کے سیکریٹری خارجہ سہیل محمود نے کی۔
امریکا فروری میں طالبان کے ساتھ ہوئے معاہدے کے بعد سے لے کر اب تک افغانستان سے 4 ہزار 400 فوجی واپس بلا چکا ہے۔اس طرح گزشتہ چند ماہ کے دوران فوجیوں کی تعداد 13 ہزار سے کم ہو کر 8 ہزار600 ہوگئی ہے، دوحہ مذاکرات کے مطابق امریکا کو جولائی تک فوجیوں کی تعداد کم کر کے 8 ہزار 600 کرنی تھی اور اگر طالبان اپنے وعدوں پر قائم رہتے تو بقیہ فوجیوں کو 14 ماہ کے عرصے میں واپس بلانا تھا۔
تاہم اس بات کے اشارے موجود ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی انتخابات کی وجہ سے تیز انخلا چاہتے ہیں، کچھ کا خیال ہے کہ وہ دوبارہ انتخابات میں کامیابی کے امکانات کو تقویت دینے کے لیے ایسا کرسکتے ہیں۔تاہم سب کے لئے پریشان کن بار بین الافغان مذاکرات میں تاخیر ہے جنہیں 10 مارچ سے شروع ہونا تھا لیکن اس سے قبل کابل کو طالبان کے 5 ہزار جنگجو اور طالبان کو ایک ہزار افغان سیکیورٹی فورسز کو رہا کیا جانا شرط تھا۔
تاہم اب تک قیدیوں کا تبادلہ سست روی سے ہو اور مسائل کے مزید بڑھنے کا امکان ہے کیوں کہ افغان حکومت بقیہ 600 طالبان جنگجوں کو خطرناک سمجھتے ہوئے رہا کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کررہی ہے۔کابل کی جانب سے 5 ہزار جنگجوں کی رہائی کی شرط پوری کرنے کے لیے دیگر طالبان قیدیوں کی رہائی کی تجویز دی گئی ہے اس کے علاوہ افغانستان میں بڑھتی ہوئے پر تشدد کارروائیاں بھی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔
دوسری جانب حال ہی میں ایک نئی محاذ آرائی کا آغاز ہوا اور امریکی رپورٹس میں کہا گیا کہ روسی ملٹری ایجنسی نے طالبان کو افغانستان میں امریکیوں کو قتل کرنے کے لیے پیسے دیے تھے۔لہذا جس تناظر میں یہ سہ فریقی اجلاس ہوا وہ اس کی اہمیت اجاگر کرتی ہے، چین اور پاکستان نے بین افغان مذاکرات کے لیے قیدیوں کے تبادلے میں تیزی، پر تشدد کارروائیوں میں کمی اور انسانی بنیادوں پر جنگ بندی پر زور دیا۔بیان میں کہا گیا کہ چین اور پاکستان، افغان سربراہی میں افغان مفاہمتی امن عمل، جلد از جلد بین الافغان مذاکرات، 2001 سے حاصل کیے گئے فوائد اور افغانستان میں امن و استحاکم کی جلد بحالی کے لیے افغان حکومت کے ساتھ تعاون میں اضافہ کریں گے

یہ بھی دیکھیں

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام مذہبی امور

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے