اتوار 4 شوال 1442ﻫ - 16 مئی 2021

ترکی کی عدالت نے عجائب گھر آیا صوفیہ کو دوبارہ مسجد بنانے کی منظوری دیدی۔

تفصیلات کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان نے تجویز دی تھی کہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کا مسجد کا درجہ بحال کیا جائے۔

یاد رہے کہ آیا صوفیہ جو کہ 16ویں صدی کا عالمی ثقافتی ورثہ ہے مسیحیوں کی بازنطینی اور مسلمانوں کی سلطنتِ عثمانی دونوں کے لیے اہم تھا اور اب ترکی کی وہ یادگار ہے جہاں بڑی تعداد میں سیاح اور مقامی افراد جاتے ہیں۔ ایا صوفیہ کی موجودہ عمارت ڈیڑھ ہزار سال قبل 538 عیسوی میں تعمیر ہوئی تھی۔

تاہم ترکی کی اعلیٰ عدالت کا فیصلہ امریکی، روسی یونانی افسران اور مسیحی رہنماؤں کے لیے باعثِ تشویش ہے۔

واضح رہے کہ آیا صوفیہ کو 1934 میں عجائب گھر بنا دیا گیا تھا اور ابھی مسئلہ اس فیصلے کی قانونی حیثیت پر ہے۔ یہ فیصلہ مصطفیٰ کمال اتاترک کے دور میں ترک سیکولر ریاست کی بنیاد کے ایک دہائی بعد کیا گیا تھا۔

حکومت حامی کالم نگار عبدالقادر سیلوی نے حریت اخبار میں لکھا ہے کہ قوم 86 سالوں سے اسی فیصلے کا انتظار کر رہی ہے۔ عدالت نے آیا صوفیہ پر سے پابندیوں کی زنجیر ہٹا دی ہے۔ یہ کیس سامنے لانے والی ایسوسی ایشن کے مطابق آیا صوفیہ سلطنت عثمانیہ کے سلطان محمد دوم کی پراپرٹی تھی۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق استنبول کی تاریخی عمارت آیا صوفیہ بڑی طاقتوں، تہذیبوں اور مذاہب کے تصادم داستان سناتی ہے۔ اس میں موجود عیسیٰ علیہ السلام اورحضرت مریم کی پچی کاری کے ساتھ ساتھ ’اللہ‘ اور ’محمد‘ کی خطاطی بھی موجود ہے۔

اس سے قبل ترک صدر رجب طیب اردوان نے آیا صوفیہ سے متعلق کہا تھا کہ اس بارے میں بیان بازی ترکی کی سالمیت کے خلاف حملہ ہے۔

صدر نے استنبول کے علاقے لیونت میں مسجد کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتےہوئے کہا تھا کہ ہم جس طرح دیگر ممالک میں کھولے جانے والی عبادت گاہوں کی تعظیم کو مقدم سمجھتے ہیں اسی طرح چاہتے ہیں کہ کوئی بھی ہماری عبادت گاہوں کے معاملات میں دخل اندازی نہ کرے،کیونکہ اس قسم کی بیان بازیاں ہماری بقا و سالمیت کے خلاف حملہ تصور کی جائیں گی ۔

اردوان نے کہا کہ ترکی میں مسلم اکثریت آباد ہے جن کے علاوہ دیگر مذاہب کے پیروکار بھی اپنے عقائد کے مطابق آزادانہ طور پر عبادت گزاری اور تہواروں کو منانے کا حق رکھتے ہیں جن کا تحفظ ہماری ذمے داری ہے۔ دنیا میں کروڑوں افراد مذہبی عقائد کی وجہ سے قتل یا اذیتوں اور مصائب کا شکار ہوتے ہیں جن کی باز پرس کرنا اور انہیں روکنا زیادہ ضروری ہے۔

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا حکم۔ 

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے