منگل 6 شوال 1442ﻫ - 18 مئی 2021

نواز شریف کو سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے خلاف ویڈیو سکینڈل کی انکوائری منظر عام پر آگئی

اسلام آباد احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے خلاف انکوائری رپورٹ کی کاپی

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سردار احمد نعیم نے جج ارشد ملک کے خلاف 13 صفحات پر مشتمل انکوائری رپورٹ تیار کی

شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ارشد ملک نے جرائم پیشہ گروہ میں رضا کارانہ طور پر شمولیت اختیار کی، جسٹس سردار احمد نعیم

ارشد ملک نے ایسا کوئی ثبوت نہیں دیا جس سے ظاہر ہو کہ خوفزدہ یا حراساں کیا گیا تھا، انکوائری رپورٹ

ملزم ارشد ملک یہ بھی ثابت نہیں کرسکا کہ اس نے اپنی مرضی کے خلاف تمام متنازع کام کئے، انکوائری رپورٹ

ناصر بٹ، ناصر جنجوعہ اور مہر ناصر کی ملزم جوڈیشل افسر سے مسلسل ملاقاتوں سے ثابت ہوتا ہے ارشد ملک تک ان کی رسائی ہمیشہ سے تھی، انکوائری رپورٹ

میاں نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز کا فیصلہ کرنے کے بعد ملزم افسر جاتی امراء میں نواز شریف سے ملا، انکوائری رپورٹ

جج ارشد ملک نے کیسز کا فیصلہ کرنے کے بعد دوران عمرہ حسین نواز سے سعودی عرب میں ملاقات بھی کی، انکوائری رپورٹ

جج ارشد ملک اپنے اہلخانہ کے ہمراہ عمرہ کرنے گیا اور ناصر بٹ نے پھر سے ملزم افسر سے رابطہ کیا اور حسین نواز سے ملاقات کی، انکوائری رپورٹ

جج ارشد ملک کی مدینہ میں حسین نواز سے ملاقات کو اچانک نہیں قرار دیا جاسکتا بلکہ یہ طے شدہ ملاقات تھی، انکوائری رپورٹ

ملزم افسر نے نواز شریف کے خلاف اپنے ہی جاری کئے گئے فیصلے پر تیار کی گئی اپیل کا جائزہ بھی خود لیا، انکوائری رپورٹ

ملزم افسر ارشد ملک نے تسلیم کیا کہ 2000 سے 2003 میں ملتان تعیناتی کے دوران متنازع ویڈیو بنانے والے میاں محمد طارق سے جان پہچان ہوئی، انکوائری رپورٹ

ملزم ارشد ملک نے ناصر بٹ سمیت دیگر سے ملنے والی دھمکیوں اور بلیک میلنگ سے متعلق کبھی بھی اپنے افسران کو آگاہ نہیں کیا، انکوائری رپورٹ

جج ارشد ملک نے دباﺅ کے تحت ملاقات کرنے کے بیان کے دفاع میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا، انکوائری رپورٹ

جج ارشد ملک کی نواز شریف، حسین نواز، ناصر بٹ سمیت دیگر کی ملاقاتوں کو اتفاقی قرار نہیں دیا جاسکتا، انکوائری رپورٹ

ملزم جج ارشد ملک کی نواز شریف، حسین نواز سمیت دیگر سے ملاقاتیں کرنا ضابطہ اخلاق کی دفعہ 7، 30 اور 31 کی خلاف ورزی ہے، انکوائری رپورٹ

ملزم جوڈیشل افسر کا ایک طرف کہنا کہ اسے بلیک میل کیا گیا اور دوسری طرف نواز شریف کے خلاف فیصلے کا آخری پیرا ملزم کے موقف کی نفی کرتا ہے، انکوائری رپورٹ

ملزم جج ارشد ملک نے اپنے دفاع میں جتنی بھی دستاویزات پیش کیں وہ تمام غیر مصدقہ فوٹو کاپیاں پیش کیں جنہیں تسلیم نہیں کیا جاسکتا، انکوائری رپورٹ

ملزم جج ارشد ملک کے خلاف مس کنڈکٹ کا الزام ہے اور ملزم نے الزامات کی تردید نہیں کی بلکہ کہا کہ اس نے ملاقاتیں دباﺅ کے تحت کیں، انکوائری رپورٹ

ملزم جج ارشد ملک نے کہا ہے کہ وہ ایسا عمل نہیں کرنا چاہتا تھا کہ جس سے اس کے اہلخانہ کو تکلیف پہنچائی جائے، انکوائری رپورٹ

ملزم ارشد ملک نے اپنا جرم تسلیم کیا مگر استدعا کی کہ اسے معاف کر دیا جائے، انکوائری رپورٹ

جج کو اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے اپنی خود مختاری کو برقرار رکھنا لازم ہوتا ہے، انکوائری رپورٹ

ضابطہ اخلاق کی دفعہ 30 کے تحت کسی بھی جج کو کسی بھی فریق سے ملاقات یا رابطہ نہیں کرنا چاہیئے، انکوائری رپورٹ

جج ارشد ملک کا اپنے دفاع میں پریس ریلیز جاری کرنا ضابطہ اخلاق کی دفعہ 7 کی خلاف ورزی ہے، جسٹس سردار احمد نعیم

ملزم جوڈیشل افسر ارشد ملک نے بیان حلفی میں مہر ناصر اور ناصر جنجوعہ کو اپنی پرانی جان پہچان والا تسلیم کیا ہے، انکوائری رپورٹ

ملزم ارشد ملک کو احتساب عدالت میں تعینات کروانے میں ناصر جنجوعہ اور مہر ناصر کے کردار ادا کرنے کا ذکر بھی ملزم افسر کے بیان حلفی میں تحریر ہے، انکوائری رپورٹ

ارشد ملک نے اپنے بیان حلفی میں تسلیم کیا ہے کہ ناصر جنجوعہ اور مہر ناصر نے نواز شریف کے خلاف ریفرنسز میں جانبدارانہ فیصلے کروانے کا کہا، انکوائری رپورٹ

بیان حلفی میں ارشد ملک نے ناصر بٹ کی جانب سے حراساں، بلیک میل اور دھمکیاں موصول ہونے کا ذکر کیا ہے، انکوائری رپورٹ

ریکارڈ سے انکشاف ہوا کہ ملزم ارشد ملک سعودی عرب مدینہ میں حسین نواز شریف سے بھی ملا، انکوائری رپورٹ

ریکارڈ کے مطابق ملزم جج ارشد ملک کو استعفیٰ دینے کے لئے 500 ملین روپے کی آفر بھی کی گئی ، انکوائری رپورٹ

ملزم جج ارشد ملک کو کہا گیا کہ وہ استعفیٰ دے اور کہے کہ نواز شریف کے خلاف فوج اور عدلیہ کے دباﺅ پر ریفرنسز دائر کئے گئے، انکوائری رپورٹ

ملزم ارشد ملک نے مخصوص حالات و واقعات کی وضاحت کیلئے جاتی امراء میں ناصر بٹ کے ہمراہ میاں نواز شریف سے ملاقات کی، انکوائری رپورٹ

ملزم ارشد ملک نے نواز شریف کے خلاف ریفرنس میں اپیل دائر کرنے کی تیاری میں بھی ناصر بٹ سے ملاقات کی، انکوائری رپورٹ

ملزم جج ارشد ملک نے ویڈیو سکینڈل میں اپنے دفاع کیلئے کوئی گواہ پیش نہیں کیا، انکوائری رپورٹ

ملزم افسر محمد ارشد نے پریس ریلیز اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروایا گیا مصدقہ بیان حلفی بطور ثبوت پیش کیا، انکوائری رپورٹ

ملزم جج ارشد ملک نے اپنے اوپر لگائے گئے مس کنڈکٹ کے الزامات ثابت نہ ہونے کا بیان دیا، انکوائری رپورٹ

ملزم جج ارشد ملک نے کہا کہ پراسیکیوشن کے جبر اور سختی کی وجہ سے انہوں نے بیان حلفی اور پریس ریلیز جاری کی، انکوائری رپورٹ

جج ارشد ملک نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ اور ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ ریفرنس پر فیصلے سنائے، انکوائری رپورٹ

ملزم جوڈیشل افسر نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دئیے گئے بیان حلفی اور پریس ریلیز جاری کرنے کے الزام کو کسی بھی سطح پر رد نہیں کیا، انکوائری رپورٹ

ملزم جوڈیشل افسر ارشد ملک نے پوری انکوائری میں کہیں بھی نہیں کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس سے بیان حلفی مانگا تھا، انکوائری رپورٹ

ملزم ارشد ملک نے مریم صفدر کی 6 جولائی 2019 کی پریس کانفرنس کے بعد اپنی بے گناہی کی پریس ریلیز جاری کی، انکوائری رپورٹ

احتساب عدالت اسلام آباد کے جج ارشد ملک پنجاب سول سرونٹس رولز کی دفعہ 3 بی کے تحت مس کنڈکٹ کے مرتکب پائے گئے، انکوائری رپورٹ

پنجاب سول سرونٹس رولز کی دفعہ 4 بی کے تحت ارشد ملک کو نوکری سے برخاست کرنے کی سفارش کی جاتی ہے، جسٹس سردار احمد نعیم

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے