اتوار 15 ذوالحجہ 1442ﻫ - 25 جولائی 2021

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سابق مشیر روجر سٹون کی سزا ختم کرنے پر تنقید کا سامنا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے پرانے ساتھی اور سابق مشیر روجر سٹون کی قید کی سزا ختم کرنے پر تنقید کا سامنا ہے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب روجر سٹون کی جانب سے عدالت میں چالیس ماہ قید کی سزا کے آغاز میں تاخیر کرنے کی استدعا مسترد کی گئی تھی۔
انھیں کانگرس سے جھوٹ بولنے، کارروائی میں مداخلت ڈالنے اور گواہان پر دباؤ ڈالنے کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔
سٹون امریکی صدر کے چھٹے ساتھی ہیں جن پر امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے سنہ 2016 میں صدر ٹرمپ کی صدارتی مہم میں روس کی مداخلت کے سلسلے میں ہونے والی تحقیقات کے دوران الزامات ثابت ہوئے تھے۔
67 سالہ سٹون کی سزا پر عملدرآمد جارجیا کی وفاقی حکومت کے زیر انتظام جیل میں منگل سے ہونا تھا۔
ڈیموکریٹس کے اہم رہنماؤں نے صدر ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے حریف اور صدارتی امیدوار جو بائیڈن کے ترجمان نے امریکی صدر پر اختیارات سے تجاوز اور امریکی اقدار کو ’تباہ کرنے‘ کا الزام عائد کیا ہے۔
جبکہ وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ روجر سٹون مخالفین کی جانب سے صدر کو کمزور کرنے کی ایک سازش کا شکار ہوئے تھے۔
سیاسی ناقدین کی جانب سے صدر ٹرمپ پر سٹون اور دیگر سابق معاونین کے خلاف فوجداری مقدمات پر تنقید کرنے کے باعث عدالتی نظام کو خراب کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کیا کہنا ہے؟
وائٹ ہاوس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’روجر سٹون ایک روسی سازش کا شکار ہوئے ہیں جسے بائیں بازو اور اس کے اتحادیوں نے برسوں میڈیا کے ذریعے صدر ٹرمپ کے دور صدارت کو کمزور کرنے کی ایک کوشش کے لیے تیار کیا تھا۔‘
وائٹ ہاوس نے یہ بھی کہا کہ روجر سٹون کی گرفتاری سے قبل ایف بی آئی نے سی این این کو سٹون کے گھر پر چھاپہ مارنے کی اطلاع دی تھی تاکہ کیمرہ ٹیم اس کارروائی کو ریکارڈ کرنے پہلے سے ہی موجود ہو۔
وائٹ ہاوس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’روجر سٹون کو پہلے ہی بہت کچھ سہنا پڑا ہے۔ ان کے ساتھ اس مقدمے میں بہت امتیازی سلوک روا رکھا گیا ہے جبکہ اس کیس میں دیگر افراد بھی شامل تھے تاہم اب روجر سٹون ایک آزاد شہری ہیں۔‘
امریکی صدر ٹرمپ کئی ماہ سے روجر سٹون کی سزا کو ختم کرنے کا عندیہ دیتے آ رہے ہیں۔ حال ہی میں جمعرات کو بھی انھوں نے فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے بھی اس بارے میں کہا تھا۔

ردعمل کیا آیا ہے؟
صدر ٹرمپ کے سیاسی حریف اور صدارتی امیدوار جو بائیڈن کے ترجمان بل روسو کا کہنا تھا کہ ’ٹرمپ کو شرم نہیں دلائی جا سکتی ان کا راستہ صرف بیلٹ باکس کے ذریعے ہی روکا جا سکتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سزا کے ختم کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ صدر ٹرمپ ایک مرتبہ پھر احتساب سے بچ نکلنے کی امید کرتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ ہی ان اقدار اور اصولوں کو پامال کرتے ہیں جو ہمارے ملک کو دیگر دنیا کے لیے مشعل راہ بناتے ہیں۔‘
امریکی ایوان نمائندگان کی انٹیلیجنس کمیٹی کے سربراہ آدم سکف نے بھی صدر ٹرمپ کے اقدام کی مذمت کی ہے جبکہ ڈیموکریٹس سے تعلق رکھنے والی سنیٹر الزبتھ وارن کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ امریکہ کی تاریِخ میں ڈونلڈ ٹرمپ سب سے زیادہ بدعنوان صدر ہیں۔

روجر سٹون کو کس لیے مجرم قرار دیا گیا؟
روجر سٹون کو سنہ 2016 کے انتخابات میں صدر ٹرمپ کی سیاسی حریف ڈیموکریٹک جماعت کی امیدوار ہیلری کلنٹن کے بارے میں نقصان دہ ای میلز جاری کرنے والی ویب سائٹ وکی لیکس سے رابطہ کرنے کی اپنی کوششوں کے بارے میں ایوان نمائندگان کی انٹلیجنس کمیٹی میں جھوٹ بولنے کے الزام سزا دی گئی تھی۔
سٹون نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ وہ سنہ 2016 کے انتخابات کے دوران وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے ساتھ رابطے میں تھے۔
انھوں نے یہ بھی مانا کہ ان کے علم میں تھا کہ ویب سائٹ ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے سرور سے چرائی گئی 19 ہزار ای میلز کو جاری کرے گی۔

روجر سٹون کون ہیں؟
روجر سٹون سنہ 1970 کی دہائی سے ریپبلکن پارٹی کے ساتھ کام کرتے آئے ہیں اور انھوں نے اپنی کمر پر سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن کا ٹیٹو بھی بنوا رکھا ہے۔
سنہ 1990 میں سٹون، ڈونلڈ ٹرمپ کے کسینو کے کاروبار کے لیے لابی کرتے رہے جبکہ سنہ 2000 میں انھوں نے صدر ٹرمپ کی صدارتی انتخاب کی دوڑ میں بھی مدد کی تھی، جو وہ ہار گئے تھے۔

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا حکم۔ 

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے