ہفتہ 10 ربیع الاول 1443ﻫ - 16 اکتوبر 2021

برہان وانی کی برسی اور یوم شہدائے کشمیر پر لاکھوں فیس بک پیجز، ٹویٹر اکاونٹس بلاک کر دئے گئے

سوشل نیٹ ورک کے سب سے بڑے سماجی رابطے کی ویب سائٹ، فیس بک کو اس وقت شدیداخلاقی و معاشی دباو کا سامنا ہے۔جس کی وجہ فیس بک انتظامیہ کا اخلاقی و انتظامی ضوابط کے تحت دوہرے معیار کا شکار ہونا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں ہند انتہا پسندوں کی ریاستی دہشت گردی کو نمایاں کرنے والی تصاویر، ویڈیو و تحاریر کو اخلاقی نظم وضبط کے خلاف کرکے پوسٹ ڈیلیٹ کرادی جاتی ہے یا پھر صار ف کااکاونٹ ہی بند کر دیا جاتا ہے۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق فیس بک سوشل نیٹ ورک میں اظہار رائے کی آزادی کے نام پر دنیا بھر میں مسلم امہ کے مذہبی جذبات مجروح کیے جاتے ہیں، لیکن ان کے خلاف فیس بک انتظامیہ کا دوہرا معیار، انصاف فراہم کرنے میں حائل رہا ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق جولائی کے مہینے میں فیس بک نے کشمیریوں کی حمایت میں کی جانے والی 90فیصد سے زائد ویڈیو یا پوسٹس کو ڈیلیٹ کیا ہے اور کشمیریوں کی حمایت میں چلنے والے 30فیصد اکاونٹس کو بلاک کیا ہے۔
بھارت میں ہندو توا کے تحت مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کی ویڈیو یا پوسٹ کو اگر کسی انتہا پسند ہندو نے پوسٹ کیا ہے تو اسے بلاک یا ڈیلیٹ نہیں کیا جاتا، لیکن مقبوضہ کشمیر و بھارت میں مسلمانوں کے حق میں مظالم کو آشکار کرنے والی تقریبا ہر پوسٹ کو بلاک کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح 2017 سے 2020 تک مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کو دنیا کے سامنے لانے والی 12 لاکھ سے زائد ٹویٹس کو ڈیلیٹ کیا گیا۔
8 جولائی کو مقبوضہ کشمیر کے شہید کمانڈر برہان مظفر وانی کی برسی تھی جس پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے پاکستانیوں نے سوشل میڈیا پر برہان کو خراج تحسین پیش کیا جس کے ردعمل پر فیس بک،ٹویٹراورانسٹاگرام انتظامیہ نے لاکھوں لوگوں کے اکاونٹ بلاک کر دیئے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق کشمیری نوجوان لیڈر برہان وانی کی برسی پر انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لئے فیس بک کے جس صارف نے بھی برہان وانی کی تصویر کو فیس بک پر کور فوٹو کے طور پر لگایا۔ ایک منٹ سے بھی قلیل وقت میں اس کی فیس بک آئی ڈی بلاک کردی گئی۔برہان وانی کے حق میں پوسٹ کرنے پر فیس بک انتظامیہ کی طرف سے 1لاکھ سے زائد پیجز تین روز کیلئے بلاک کردئے گئے۔ القمرآن لائن کے مطابق 2016میں کشمیر یوں کیلئے آوازاٹھانے پرحافظ محمدسعید کا ٹوئیٹراکاونٹ بھارتی دبا وپر بلاک کردیا گیاتھا۔اسی طرح معروف اداکار حمزہ علی عباسی اور ریڈیو پاکستان کے پیجز بھی بلاک کئے جا چکے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے کثیرالاشاعت انگریزی روزنامہ گریٹر کشمیرکے زیر انتظام شائع ہونے والے ہفت روزہ کشمیر انک کا پیج بھی اسی وجہ سے تین سال قبل بلاک کیا گیا تھا۔
ایک کشمیری رضوان ساجد کا اکاونٹ بھی اس لیے بلاک کردیا گیا کیونکہ انہوں نے اپنی پروفائل فوٹو پر برہان وانی کی تصویر لگائی۔ انہوں نے ساوتھ ایشین وائر کو بتایا کہ آخر صرف مسلمانوں کو ہی کیوں بلاک کیا جاتا ہے؟ فیس بک یکطرفہ طور پر ہندوستانی فوج کے مظالم کو سپورٹ کررہی ہے، دیگر افراد جو دل چاہے کہہ سکتے ہیں مگر جب مسلمان کچھ کہیں تو ہمیں بلاک کردیا جاتا ہے، یہ غیرجانبدارانہ اقدام نہیں۔
کشمیری تنظیم حزب المجاہدین اور اس کے سربراہ سید صلاح الدین کے متعلق پوسٹس لکھنے پر بھی فیس بک کے صارفین کو بلاک کر دیاجاتا ہے۔ کیا فیس بک کا یہ اقدام سیاسی ہے؟ اور کیا فیس بک کے پاس ایسا کرنے کا اختیار ہے؟ ان سوالات کا جواب دیتے ہوئے ڈیجیٹل رائٹس اور سائبر سکیورٹی کے ماہر محمد ہارون نے ساوتھ ایشین وائر کو بتایاکہ فیس بک ایک امریکی کمپنی ہے، اس لیے اس پر امریکی قوانین کا اطلاق ہوتا ہے۔ امریکا نے حزب المجاہدین کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہوا ہے۔ لہذا جب کسی پوسٹ میں اس تنظیم یا اس کے رہنما کا ذکر ہوتا ہے، تو فیس بک پر اسے بلاک کر دیا جاتا ہے۔فیس بک کی جانب سے یہ قدم ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔ کشمیر میں بھارت کی سرگرمیوں کو رپورٹ کیا جانا چاہیے۔
اسی طرح 13جولائی کو یوم شہدائے کشمیر پر بھی کشمیری شہدا کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے صارفین نے پوسٹس کیں۔ جس پر فیس بک نے تقریبا 20ہزار سے زائد پیجز بلاک کر دئے۔ اور 2لاکھ کے قریب اکاونٹس تین دن کے لئے معطل کر دئے۔
ان کے مطابق فیس بک کا یہ اقدام اس تنظیم کے اظہار رائے سے متعلق رویے پر سوال اٹھاتا ہے۔ فیس بک دعوی کرتا ہے وہ آزادی اظہار پر یقین رکھتا ہے لیکن اس کے کئی فیصلے ثابت کرتے ہیں کہ وہ متعصبانہ رویہ اختیار رکھے ہوئے ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارت فیس بک کے لیے ایک بڑی منڈی ہے۔اگر کشمیر پر رپورٹنگ سے متعلق فیس بک پر معنی خیز دبا ڈالنا ہے، تو حکومت کو اس تنظیم سے شفافیت کا زور دار مطالبہ کرنا ہوگا۔

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا حکم۔ 

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے