منگل 29 رمضان 1442ﻫ - 11 مئی 2021

بھارت کا کشمیر پر قبضے کی طرف ایک اور قدم

مقبوضہ جموں و کشمیر انتظامیہ نے کنٹرول آف بلڈنگ آپریشنز ایکٹ 1988 اور جموں و کشمیر ڈویلپمنٹ ایکٹ ، 1970 میں ترمیم کی منظوری دی ہے تاکہ جموں و کشمیر کے کسی بھی علاقے کو "اسٹریٹجک علاقوں” کا سٹیٹس دیاجاسکے جہاں ہندوستانی مسلح افواج غیر منظم تعمیرات اور دیگر متعلقہ سرگرمیاں انجام دے سکتی ہیں۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مختلف علاقوں میں واقع ہندوستانی مسلح افواج کے موجودہ کیمپوں / چھاونیوں کو اسٹریٹجک علاقے قرار دیا جاتا ہے۔ فی الوقت جہاں نئے کیمپوں / چھاونیوں کی تعمیر زیرغور ہے ،وہاں زمیں حاصل کی جائے گی۔ اوروہاں جو تعمیرات کی جارہی ہیں وہ مستقل ہوں گی۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس وقت بہت سے کیمپ نجی مکانات جیسے باغات ، مکانات ،اورریاستی سرکاری املاک اس طرح عارضی طور پر قائم ہیں۔ اب ایک پورے علاقے کو اسٹریٹجک ایریا کے طور پر نامزد کیا جاسکتا ہے جسے مسلح افواج اور ان کے اہل خانہ وغیرہ کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر انتظامیہ نے جموں و کشمیر ہاوسنگ ، سستی ہاوسنگ ، کچی آبادی اور بحالی اور ٹاون شپ پالیسی ، 2020 کو اپنانے اور نوٹیفکیشن کے لئے ہاسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی تجویز کی بھی منظوری دے دی ہے۔ اس نئی پالیسی کا ہدف 2 لاکھ مکانات ہیں ۔القمرآن لائن کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر انتظامیہ نے اگلے 5 سالوں میں ایک لاکھ رہائشی یونٹوں کی تعمیر کا ابتدائی ہدف مقرر کیا ہے۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق ، اس پالیسی میں مکانات کے سات ماڈلز کا تخمینہ لگایاگیا ہے ۔یہ رہائش گاہیں اور بستیوں کی دکانیں ، نئی پالیسی کے مطابق ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے تعمیر کی جائیں گی ۔

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا حکم۔ 

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے