منگل 13 ربیع الاول 1443ﻫ - 19 اکتوبر 2021

چین کے مسلمان اکثریتی صوبے میں کرونا وائرس کے حملوں میں تیزی، ہنگامی حالت نافذ

چین کے مسلمان اکثریتی صوبے سنکیانگ میں کرونا وائرس کے حملوں میں تیزی کے بعد حکام نے ہنگامی حالت نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔خبررساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ چین کے مشرقی صوبے میں حالت جنگ کااعلان وہاں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے بعد کیا گیا ہے۔چین کے مشرقی صوبے سنکیانگ کے دارالحکومت ارمچی میں کورونا وائرس کیسز میں اضافے کا بعد ’حالتِ جنگ‘ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ہفتے کے روز حکام کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق یہاں 17 نئے مریض سامنے آئے تھے جس کے بعد آمد و رفت پر کڑی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔حالانکہ یہ اعداد و شمار بظاہر معمولی ہیں لیکن چین میں ووہان کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں میں وائرس کا نمایاں پھیلاؤ نہیں دیکھا گیا۔

خیال رہے کہ سنکیانگ میں اویغور مسلمانوں کی اکثریت ہے اور یہاں ریاستی کنٹرول انتہائی مضبوط ہے۔ارمچی میں تازہ ترین لاک ڈاؤن کے حوالے سے نئے احکامات جاری کیے گئے ہیں جن میں ایسی عمارتوں میں بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کرنا جہاں سے نئے مریض سامنے آئے تھے۔بڑے اجتماعات اور ایک دوسرے کے گھروں میں جانے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔شہر سے صرف اس صورت میں نکلنے کی اجازت ہے اگر انتہائی ضروری ہو اور جانے سے قبل ٹیسٹ کروانے بھی ضروری ہیں، وغیرہ شامل ہیں۔کوروناسے دنیا بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ 42 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اب تک اس مرض کے باعث چھ لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔دنیا میں کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک امریکا ہے جہاں تقریباً 36 لاکھ افراد اس مرض سے متاثر ہیں جبکہ وہاں اب تک ایک لاکھ 39 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

وزیراعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ کا کورونا وائرس کی صورتحال سے متعلق بیان۔ 

وزیراعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ کا کورونا وائرس کی صورتحال سے متعلق بیان۔ گزشتہ 24 …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے