بدھ 25 ذوالحجہ 1442ﻫ - 4 اگست 2021

بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں 4G انٹرنیٹ سروس بحال نہ کرنے کا فیصلہ

بھارتی حکومت نے ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر کی موجودہ حساس صورتحال کے پیش نظر تیز رفتار 4G انٹرنیٹ سروس بحال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ میں وزارت داخلہ کی طرف سے حکومت کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں پیش کئے گئے حلف نامے میں کہاگیا ہے کہ تفصیلی غور وخوص اور اس حساس خطے کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ فی الحال 4 جی سمیت انٹرنیٹ سروس پر عائد پابندی میں کوئی نرمی نہیں کی جا سکتی ہے۔وزارت داخلہ نے کہاکہ مقبوضہ علاقے میں 4 جی انٹرنیٹ کی بحالی کےلئے تشکیل دی گئی خصوصی کمیٹی دو ماہ بعد اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے گی اور اگلے دو مہینوں تک دیگر مجاز حکام کے ذریعہ مقبوضہ علاقے کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا اور اگر اس میں بہتری آئی ہے تو اس کے مطابق مناسب اقدامات کئے جائےں گے ۔11 مئی کو اعدالت عظمی نے حکام کو ہدایت کی تھی کہ وہ مقبوضہ علاقے میں 4 جی انٹرنیٹ سروس کی بحالی کے معاملے پر غور کیلئے تین رکنی اعلی کمیٹی تشکیل دیں ۔ کمیٹی کو یہ کام سونپاا گیا تھا کہ وہ موبائل انٹرنیٹ کو صرف 2 جی تک محدود رکھنے کی ضرورت کا تعین کرے۔ سیکریٹری داخلہ کی سربراہی میں قائم کمیٹی میں سیکریٹری ٹیلی مواصلات اور جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری بھی شامل تھے ۔ 16 جولائی کو جسٹس این وی رمنا کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک بنچ نے جموں و کشمیر انتظامیہ اور بھارتی حکومت کو میڈیا پروفیشنلز فاؤنڈیشن کی طرف سے دائر عرضداشت میں توہین عدالت کے مرتکب ہونے کے بارے میں لگائے گئے الزامات کا جواب دینے کیلئے کہاگیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا حکم۔ 

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے