جمعہ 27 ذوالحجہ 1442ﻫ - 6 اگست 2021

حیات ابدی، علامہ محمد اقبالؒ: تشریح از خاور فہیم

حیات ابدی

زندگانی ہے صدف، قطرہ نیساں ہے خودی
وہ صدف کیا ہے جو قطرے کو گہر کر نہ سکے
ہو اگر خودنگر و خودگر و خودگیر خودی
یہ بھی ممکن ہے کہ تُو موت سے بھی مر نہ سکے
(علامہ محمد اقبالؒ ۔۔۔ حیات ابدی ۔۔۔ ضرب کلیم)

 


 

تشریح از خاور فہیم

انسان کی زندگی ایک سیپ کی مانند ہے جس میں بارش کا قطرہ گرتا ہے تو وہ نایاب اور بیش قیمت موتی میں ڈھل جاتا ہے اگر کوئی صدف قطرہ نیساں کو گہر نہ بنا سکے تو وہ صدف بیکار ہے، بالکل اسی طرح انسانی زندگی ایک صدف کی مانند ہے اور خودی ابر نیساں کا قطرہ ہے اگر زندگی انسانی خودی کو ایک گہر نہ بنا سکے تو وہ زندگی کس کام کی؟ اور زندگی ہر فرد کی انفرادیت ہے ہر انسان کو اپنی زندگی کو ایک صدف کی طرح بنانا ہے تاکہ وہ بلند مقام تک پہنچ جائے۔ اگر ایک فرد اپنے آپ پر نظر رکھے اور اپنے آپ کو وحی کے تابع رکھے اور اپنے آپ کو یوں بنا لے کہ بہتر سے بہتر انسان بن جائے اور پھر باطل سے بچ کر اپنی خودی کو مضبوط اور توانا کر لے تو پھر یہ ممکن ہے کہ یہ انسان موت سے بھی مرے بلکہ اگلی دنیا میں سر خرو ہو جائے۔ اس لئے ہر فرد اپنے آپ کو زندہ جاوید رہنے کیلئے خودی کو بلند ترین کر لے۔

یہ بھی دیکھیں

چئیرمین کشمیر کمیٹی شہریار خان آفریدی کا ترکی اردو کی پاکستان میں لانچنگ کی تقریب  کے شرکاء سے خطاب۔ 

چئیرمین کشمیر کمیٹی c کا ترکی اردو کی پاکستان میں لانچنگ کی تقریب  کے شرکاء …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے