جمعرات 16 صفر 1443ﻫ - 23 ستمبر 2021

مستی کردار، علامہ محمد اقبالؒ: تشریح از خاور فہیم

مستی کردار

صوفی کی طریقت میں فقط مستی احوال
مُلا کی شریعت میں فقط مستی گفتار
شاعر کی نوا مُردہ و افسردہ و بے ذوق
افکار میں سرمست، نہ خوبیدہ نہ بیدار
وہ مردِ مجاہد نظر آتا نہیں مجھ کو
ہو جس کے رگ و پے میں فقط مستی کردار
(سخن ور علامہ محمد اقبالؒ)

 


 

تشریح از خاور فہیم

صوفیا اکرام کی طریقت کے مطابق، تصوف کے باطنی علم کے مطابق پُرجوش اور وجد میں بے خود ہو کر زندگی گزارنا ہی اضل زندگی ہے یعنی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر کے رہبا نیت پر فائز ہو کر ہی زندگی گزاری جا سکتی ہے اور مولانا حضرات کے مطابق زندگی شریعت، دین کے قانون کے مطابق گفتار کو درجہ کمال تک لے جانا ہی اصل زندگی ہے۔

اگر شاعر کی بات کریں تو وہ بھی مردہ، افسردہ اور بدذوق افکار کے میں ڈوبے ہوئے ہیں ان کی کیفیت یہ ہے کہ نہ جاگ رہے ہیں نہ سوئے ہوئے ہیں وہ عالم غنودگی میں ہیں۔

لیکن وہ مرد مجاہد کہیں نظر نہیں آرہا ہے جسے اُمت تلاش کر رہی ہے جس کے عمل و فعل اور قول و فعل میں صرف اور صرف باطل سے ٹکرانے کا حوصلہ ہو۔ وہ خالدؓ، طارقؓ، محمد بن قاسمؓ، صلاح الدین ایوبیؓ، اور تغرلؓ جیسا ہو۔

یہ بھی دیکھیں

چئیرمین کشمیر کمیٹی شہریار خان آفریدی کا ترکی اردو کی پاکستان میں لانچنگ کی تقریب  کے شرکاء سے خطاب۔ 

چئیرمین کشمیر کمیٹی c کا ترکی اردو کی پاکستان میں لانچنگ کی تقریب  کے شرکاء …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے