ہفتہ 14 ذوالحجہ 1442ﻫ - 24 جولائی 2021

کراچی صوبائی وزیر سعید غنی آلائشوں کو ٹھکانے لگانے کے عمل کا جائزہ

 

 

 

 

کراچی صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا ہے کہ کراچی میں عیدقربان کے موقع پر آلائشوں کو ٹھکانے لگانے کے حوالے سے کچھ اضلاع میں شکایات ملی ہیں اور اس کی وجہ ان علاقوں میں مطلوبہ مقدار میں کنٹریکٹرز کی جانب سے گاڑیوں کی عدم فراہمی ہے۔ مئیر کراچی، تمام ڈی ایم سیز کے چیئرمین اور تمام اداروں کی مشترکہ کاوشوں کے باعث مشکلات کا ازالہ کیا جارہا ہے۔ عوام کئی مقامات پر قربانی کے بعد آلائشیں ایسی جگہوں پر ڈال دیتے ہیں جو باقاعدہ کوڑے دان نہیں ہوتے اور وہاں سے آلائشیں نہیں اٹھ پاتی اس لئے عوام بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز ڈسٹرکٹ کورنگی، ایسٹ، ویسٹ اور سنیٹرل کے دورے کے بعد ڈسٹرکٹ سینٹرل میں مئیر کراچی وسیم اختر اور ڈسٹرکٹ چیئرمین ریحان ہاشمی کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر سیکرٹری بلدیات سندھ روشن شیخ اور سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے اعلیٰ افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ قبل ازیں مختلف اضلاع کے دورے کے دوران ان ڈسٹرکٹ کے چیئرمین، میونسپل کمشنرز، سیکرٹری بلدیات اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شامل تھے۔

میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی خصوصی ہدایات پر مجھ سمیت کابینہ کے وزراء صوبے کے مختلف اضلاع میں آلائشوں کو ٹھکانے لگانے کے عمل کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں انہوں نے مختلف اضلاع میں ان کاموں کا جائزہ لیا ہے اور زیادہ تر وہاں مشینری کی کمی کی شکایات انہیں ملی ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ کچھ مقامات پر سندھ سولڈ ویسٹ کی جانب سے صفائی کے حوالے سے عید سے قبل مکمل اقدامات نہیں کئے گئے، جس کے باعث عید کے دوران مشکلات درپیش آئی اور خصوصاً ڈسٹرکٹ ویسٹ اور سینٹرل میں اس حوالے سے شکایات زیادہ ملی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں آلائشوں کو عید کے پہلے روز رات 8 بجے تک ٹھکانے لگ جانا چاہیے تھا وہاں رات گئے تک یہ آپریشن جاری رہا اور اس میں یوسی اور ڈی ایم سیز کے چیئرمینز اور دیگر منتخب نمائندوں کے ساتھ مل کر سندھ سولڈ ویسٹ کے عملے نے کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مئیر کراچی کی جانب سے سندھ سولڈ ویسٹ کے حوالے سے تحفظات ہیں اور انہوں نے اس کا پہلے بھی اظہار کیا ہے لیکن ہم اداروں کو بند کردیں یہ اس کا حل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اداروں میں بہتری کے لئے سندھ حکومت تمام اقدامات بروئے کار لارہی ہے اور شکایات کے ازالے کے لئے تمام متعلقہ افسران سے بازپرس بھی کی جارہی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ بارشوں کے بعد گذشتہ برس بھی ڈسٹرکٹ سینٹرل میں کچھ مقامات پر پانی جمع ہونے کی شکایات تھی اور میں خود جب اس وقت وزیر بلدیات تھا میں نے ریحان ہاشمی کے ساتھ مل کر گرین لائن کے لئے بننے والی لائن کے باعث لائنوں کو بند ہونے پر انہیں مشینری سے کھلوایا تھا اور اس سال بھی کم و بیش اسی طرح کے مسائل سامنے آئے ہیں، جس کا ازالہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ گارڈن ہیڈ کواٹر کے سامنے سولجر بازار نالے کے اوور فلو کی شکایات پر میں اور وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے فوری وہاں کا دورہ کیا تو معلوم ہوا کہ نالے سے آگے لگے 9 پائپ میں سے 8 پائپ کے آگے بڑی بڑی سیمنٹ کی بلاکس لگا دئیے گئے تھے، جنہیں ہیوی مشینری سے ہٹایا گیا اور ماضی میں بھی گٹروں اور نالوں میں بوریوں اور دیگر کی مدد سے چوک کرنے کی شکایات موصول ہوتی رہی ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے نالوں کی صفائی کے لئے نیشنل ڈیزاسٹر مییجمنٹ بورڈ اور FWO کی ٹیموں کو متعین کرنے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں گورنر سندھ کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے بارشوں کے 4 روز کے بعد وزیر اعظم کو صورتحال سے آگاہ کیا ورنہ وہ اس ملک کے وزیر اعظم ہونے کے باوجود کراچی کی صورتحال سے لاعلم تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ ایک اور ادارہ کراچی میں صفائی ستھرائی کے حوالے سے آیا ہے اور انہیں ڈی ایم سی کے نالوں، شارع فیصل کے دونوں اطراف ڈرینج اور گذر نالے کا ٹاسک دیا گیا ہے کیونکہ شہر کے وہ 38 بڑے نالے جو کے ایم سی کے زیر انتظام ہے اس کی صفائی کا کام ورلڈ بینک کی معاونت سے شروع کردیا گیا ہے، جس میں سندھ حکومت، کے ایم سی اور مئیر کراچی بھی آن بورڈ ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ وہ آئیں اور ہمارا ہاتھ بٹائیں اور دیکھیں کہ ہمیں کن کن مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ اداروں میں جو خامیاں اور کوتاہیاں سامنے آرہی ہیں، ان کو دور کیا جارہا ہے اور یہ عمل جاری رہے گا۔ اس موقع پر مئیر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ عید الضحٰی کے حوالے سے وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ سے متعدد مٹینگز ہوئی اور انہوں نے اس موقع پر سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے افسران کو اس بات کا پابند کیا تھا کہ عید سے تین روز قبل تمام ڈسٹرکٹس میں وہ گاربیج اٹھا کر ڈمپنگ پوائنٹس تک پہنچا دیں گے تاکہ عید کے دوران آلائشوں کو اٹھانے کے آپریشن میں کسی قسم کی کوئی مشکل نہ رہے لیکن افسوس کہ سندھ سولڈ ویسٹ نے ان احکامات کو بھی نہ مانا اور اس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں بالخصوص ڈسٹرکٹ سینٹرل اور ویسٹ میں مشکلات بڑھ گئی اور عوام کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات بھی ہیں کہ اگر کوئی ادارہ کام نہیں کرتا تو اس کو بند کردو اور اگر سندھ سولڈ ویسٹ کا ادارہ اپنا ہدف پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو اسے بند کردینا ہی بہتر ہے یا پھر اس میں موجود افسران کو تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ واٹر بورڈ کے خلاف ہماری ہیلپ لائن پر سینکڑوں شکایات موصول ہورہی ہے لیکن وہاں بھی تمام افسران اور ملازمین عید کی چھٹیاں منانے میں مصروف ہیں اور کئی علاقوں میں سیوریج کا پانی سڑکوں پر پھیل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ سولڈ ویسٹ اور واٹر ہورڈ ہمارے نہیں بلکہ سندھ حکومت کے زیر انتظام ہیں اور انہیں سندھ حکومت کو ہی درست کرنا ہے۔ اس موقع پر چیئرمین ڈی ایم سی سینٹرل رئحان ہاشمی نے بھی اپنے ڈسٹرکٹ کے حوالے سے کئے گئے اقدامات اور انہیں درپیش مشکلات سے صوبائی وزیر کو آگاہ کیا۔

یہ بھی دیکھیں

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام مذہبی امور

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے