پیر 28 رمضان 1442ﻫ - 10 مئی 2021

صوبائی وزیر علیم خان کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے سرکاری اراضی پر مبینہ قبضے کے کیس پر سماعت

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے کیس کی سماعت کی،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الزام ہے کہ ریاست کی زمین پرائیویٹ سوسائٹی کو استعمال کے لیے دی گئی، نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے خلاف لوگوں کو زبردستی بے دخل کرنے کا بھی الزام ہے، عدالت نے چیئرمین سی ڈی اے سے 13 اگست تک تفصیلی رپورٹ طلب کر لیاسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ بتائیں ریاستی زمین پر سوسائٹی کو سڑک بنانے کی اجازت کیوں دی گئی؟ پرائیویٹ سوسائٹی کے اکثریتی شیئرز کا مالک کون ہے؟ جس پر وکیل نے عدالت میں کہا کہ پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کی اکثریتی شیئر ہولڈر علیم خان کی اہلیہ ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ یہ علیم خان کون ہیں؟ جس پر وکیل نے کہا کہ علیم خان پی ٹی آئی کے ایم پی اے اور صوبائی وزیر ہیں،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ علیم خان اتنے بااثر ہیں کہ ریاست نے اپنی زمین استعمال کیلئے دے دی؟ عدالت کیوں نہ یہ معاملہ وفاقی کابینہ کو بھجوا دے؟ کیوں نہ انکوائری کمیشن کی تشکیل کیلئےلکھا جائے، اگر ایسا ہے تو پھر کمزور کے کھوکھے گرانے کی اجازت بھی نہیں دیں گے، سی ڈی اے ریاست کی زمین کیسے دے سکتا ہے؟اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سی ڈی اے نے خود اعتراف کیا کہ ایسا کرنا بورڈ کی غلطی تھی، سیشن جج کی رپورٹ پڑھیں کہ قبضہ مافیا کی وجہ سے کرائم ریٹ میں اضافہ ہوا،عدالت آئے روز کہتی ہے کہ اسلام آباد میں قانون کی حکمرانی نہیں، علیم خان کی ہاوسنگ سوسائٹی کی متنازع جگہ زیر استعمال نہ لانے پر حکم امتناع برقرار رہے گا،عدالت نے ہدایت کی کہ زمین مالکان کو تحفظ فراہمی کیلئے آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر تحفظ دیں

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے