جمعرات 14 ذوالقعدہ 1442ﻫ - 24 جون 2021

بھارت نے 5اگست کے یکطرفہ اقدامات کے بعد جموں وکشمیرمیں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی مہم شروع کی

گذشتہ سال 5 اگست کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے اور اسے دو یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کرنے کیلئے بھارت کی طرف سے اپنے آئین کی دفعہ 370 کو منسوخ کئے جانے کے بعد سے بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ جموںوکشمیر ایک بڑی جیل کامنظر پیش کررہا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی جانب سے بھارت کی فسطائی حکومت کی طرف سے مقبوضہ علاقے کے فوجی محاصرے کو ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر جاری کی گئی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت نے جموں وکشمیر کے اہم شہروں اور قصبوں میں موبائل ، ٹیلی ویژن ، لینڈ لائن اور انٹرنیٹ سروسز معطل کرکے سخت کرفیو نافذ کردیا تھاتاکہ بیرونی دنیا کو مقبوضہ علاقے کے بارے میں اس کے خوفناک عزائم سے بے خبر رکھا جاسکے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میڈیا پر سخت قدغن عائد کی گئیں تھیںاور مقامی اخبارات اپنے آن لائن ایڈیشن اپ ڈیٹ نہیں کر پار ہے تھے ۔ کرفیو اور دیگر پابندیوں کی وجہ سے بیشتر اخبارات کئی ماہ تک نہیں چھپ سکے۔مقبوضہ جموںوکشمیر سے متعلق خبریںبھارت اور دنیا بھرکے خبر رساں اداروں تک نہیں پہنچ سکی۔ بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ جموںوکشمیرکا رابطہ عملی طور پر بیرونی دنیا سے منقطع تھا۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کے مقصد کے حصول کیلئے کشمیریوںکی نسل کشیُ کے اپنے منصوبے پر عمل درآمد کرتے ہوئے بھارت نے انڈین ایڈمینسٹریٹو سروس کے افسر گیریش چندرر مرمو کو جموں وکشمیر کا پہلا لیفٹیننٹ گورنر مقرر کیا ہے۔ مرمو نریندر مودی کے پرنسپل سکریٹری تھے جب وہ 2002میں گجرات کے وزیر اعلی تھے اور ان کی وزارت اعلیٰ کے دور میں بڑے پیمانے پرمسلمانوں کا قتل عام کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق جموںوکشمیرمیں ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کی حمایت یافتہ بھارتی حکومت کے کشمیر مخالف ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے متعدد وفاقی قوانین اور نیا ڈومیسائل قانون متعارف کرایا گیا ہے۔لوگوںکی اکثریت سمجھتی ہے کہ بھارت نے اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور بین الاقوامی قانون کی سراسر خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے افسران سمیت ہزاروں غیر کشمیری ہندوؤں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کردیے ہیں۔ لوگوں کو خدشہ ہے کہ علاقے میں موجود 8لاکھ سے زیادہ بھارتی فوجیوں اور6لاکھ سے زائد غیر مقامی مزدوروں کو بھی آنے والے دنوں میں شہریت مل جائے گا۔ رپورٹ میں بھارت کی نئی تعمیراتی پالیسی کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس کے تحت غیر قانونی طورپربھارت کے زیر قبضہ جموںوکشمیرکے کسی بھی علاقے کو اسٹریٹجک علاقہ قراردیا جاسکتاہے جہاں بھارت کی مسلح افواج زمینوں پر قبضہ کرکے تعمیرات اور دیگر متعلقہ سرگرمیاں انجام دے سکتی ہیں۔بی جے پی حکومت مسلم دشمن پالیسیوں کے ایک حصے کے طور پر اہم مقامات اور محکموں کے مسلم نام تبدیل کرکے ہندو نام رکھ رہی ہے۔ سابق وزیر اعلی شیخ عبداللہ کی یوم پیدائش اور 13 جولائی یوم شہدائے کشمیر کو عام تعطیلات کی فہرست سے خارج کردیا گیا ہے۔ مودی حکومت نے غیر قانونی طورپربھارت کے زیر قبضہ جموںوکشمیرمیںجموں خطے کے ہندو اکثریتی علاقوں کو زیادہ نشستیں دینے کے مقصد سے لوک سبھا اور اسمبلی حلقوں کی حد بندی کا عمل شروع کردیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے الطاف بخاری کی زیرقیادت جموں کشمیر اپنی پارٹی کے نام سے اپنے کٹھ پتلیوں کا ایک نیا سیاسی محاذکھڑا کیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام مذہبی امور

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے