جمعرات 26 ذوالحجہ 1442ﻫ - 5 اگست 2021

مقبوضہ کشمیر : قابض حکام نے سرینگر میں احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے کرفیو نافذ کر دیا

قابض حکام نے غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے آج سے سرینگر میں کرفیو اور دیگر سخت پابندیاں عائد کردی ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کنٹرول لائن کے دواطراف، پاکستان اور دنیا بھر میں اس دن کو کل یوم استحصال کے طورپر منایا جائے گا۔یہ علاقہ گزشتہ سال 5 اگست سے ہی  فوجی محاصرے میں ہے۔ بھارت کی فاشسٹ مودی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو ایک سال مکمل ہونے کے پیش نظر علاقے میں بھاری تعداد میں بھارتی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔قابض حکام نے بیشتر سڑکوں اور بازاروں کو سیل کردیا ہے اور لاؤڈ اسپیکر پر اعلانات کئے جارہے ہیں جس میں لوگوں سے گھروں کے اندر رہنے کے لیے کہا جارہا ہے۔قابض حکام نے تصدیق کی کہ لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی ہے۔سرینگر کے ضلع مجسٹریٹ شاہد اقبال چودھری کی طرف سے پیر کے روز جاری کئے گئے حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ ضلع میں عوام کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی ہوگی۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندیاں فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی اور 4 اور 5 اگست کو لاگو ہوں گی۔ پوری وادی میں بازار اور کاروباری ادارے بند ہیں جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہے۔

ادھر ضلع گاندربل کے علاقے سنبل میں نالہ سندھ سے ایک نامعلوم شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے۔

دریں اثناء بھارتی فورسز نے ضلع بارہمولہ میں پٹن کے علاقے ٹاپر کے نزدیک سرینگر ـ بارہمولہ شاہراہ پر نصب بارودی سرنگ کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام مذہبی امور

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے