اتوار 23 ربیع الثانی 1443ﻫ - 28 نومبر 2021

لاہور ہائی کورٹ میں کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو مجسٹریٹ کے اختیارات دینے کے خلاف درخواستوں کی سماعت

عدالت نے درخواستوں پر سماعت 26 اگست تک ملتوی کر دی ۔۔

جس طرح کے حکومت نوٹیفیکیشن جاری کر رہی ہے میں نے اج تک ایسے نوٹیفیکیشن نہیں دیکھے ۔چیف جسٹس

عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب ۔سیکرٹری ہوم پنجاب اور کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب داخل کروانے کی ہدایت کی

عدالت نے چیف سیکرٹری ۔ہوم سیکرٹری اور سیکرٹری قانون پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ریکارڈ سمت طلب کر لیا ۔

عدالت نے معمولی جرائم میں ملوث ان تمام ملزمان کا ریکارڈ طلب کر لیا جنکو نوٹیفیکیشن کی معطلی کے بعد سزائیں ہوئیں

معمولی جرائم میں ملوث 17 ملزمان پرائس کنٹرول ایکٹ کے تحت جیلوں میں اب بھی موجود ہیں ۔آئی جی جیل خانہ جات کی رپورٹ ۔

ہم نے عدالت کے نوٹیفیکیشن معطلی کے بعد اپنا نوٹیفیکیشن واپس لے لیا تھا ۔سرکاری وکیل ۔

میرے نوٹیفیکیشن کی معطلی کے آرڈر کے بعد پرائس کنٹرول کے تحت کیسے ملزمان کو سزائیں ہو گئیں ۔چیف جسٹس ۔

دیکھنا ہے کہ نوٹیفکیشن کو معطلی کے بعد یہ سزائیں ہو سکتی ہیں۔چیف جسٹس۔

پتہ نہین حکومت کے لیگل امور پر کون مشیر ہیں جو حکومت کوغلط مشورے دیتے ہیں ۔چیف جسٹس ۔

سیکرٹری قانون سمت لا ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی صفر ہے ۔عدالت ۔

سیکرٹری قانون کی مشاورت کے بغیر کوئی جواب عدالت میں داخل نہین ہو سکتا یہ سیکرٹری قانون کی کارکردگی ہے۔چیف جسٹس

عدالت نے سرکاری وکیل کی موجودگی میں آرڈر جاری کیا۔مگر اسکی دانستہ تعمیل نہ کی گئی ۔عدالت

چیف سیکرٹری نے زبانی طور ( فون) پر صوبہ بھر کے ڈی سی اور اے سی صاحبان کو عدالتی حکم سے اگاہ کیا تھا۔ایڈشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عبدالعزیزاعوان ۔

عدالت نے سرکاری وکیل کے اس جواب سے اتفاق نہ کیا

میں نے حکومتی نوٹیفیکشن پر عمل درآمد معطل کیا ۔اس پر چیف سیکرٹری نے کیسے تعمیل کروائی ۔چیف جسٹس

چیف جسٹس محمد قاسم خان نے برسٹر مومن علی اور ندیم سرور اور دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی

گزشتہ سماعت پر عدالت نے کمشنر۔ ڈی سی لاہور ۔ اے سی مریدکے کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کیا تھا

عدالت نے نوٹیفیکیشن معطلی کے بعد چیف سیکرٹری کی جانب سے جاری ہونے والے مراسلے کا ریکارڈ طلب کر رکھا ہے

گزشتہ سماعت پر عدالت نے چیف سیکرِٹری سے جواب مانگا تھا کہ بتائیں عدالتی حکم کے متعلق صوبہ بھر کے ضلعی افسران کو کب اور کیسے آگاہ کیا تھا

عدالت کا نوٹیفیکیشن معطلی کے باوجود اختیارات استعمال کرنے پر اظہار برہمی کیا تھا

عدلیہ اور انتظامیہ کو آئین میں الگ الگ اختیارات دیے گئے , درخواست گزار
.
حکومت نے نوٹیفیکشن جاری کر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو مجسٹریٹ کے اختیارات رفویض کر دیے , درخواست گزار

عدالت نوٹیفیکیشن کو غیر آئینی اور کالعدم قرار دے , درخواست گزار

ہائی کورٹ نے اس سے پہلے حکومتی نوٹیفیکشن کو معطل کر دیا تھا

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے