جمعرات 26 ذوالحجہ 1442ﻫ - 5 اگست 2021

کشمیر پالیسی کے متعلق سعودی عرب کی مسلسل بے حسی کے بعد پاکستانی خارجہ پالیسی میں ایک اہم موڑ آیا ہے

پاکستانی وزیر خارجہ نے سعودی عرب کو دو ٹوک انداز میں پیغام دیا ہے کہ سعودی عرب کو اب طے کرنا ہو گا کہ وہ ہمارا ساتھ دیتا ہے یا تماشائی بنتا ہے ۔ سعودی عرب ساتھ دے یا نہ دے ہم اس کے بغیر بھی آگے بڑھیں گے

پاکستان نے سعودی عرب کو قرض واپس کر کے بھی واضح پیغام دے دیا ہے کہ پاکستان اب سعودی عرب کے بغیر آگے بڑھنے کا سوچ چکا ہے ۔ اب سعودی عرب کو طے کرنا ہے کہ وہ اب بھی بھارت کی پشت پناہی کرتا ہے یا پھر پاکستان کا ساتھ دے گا ۔۔
پاکستان نے اپنی معیشت کو بہتر کرنے اور اپنی بہترین سیاسی چال کے ذریعے بھارت کو ہمسائیوں سے کاٹ دیا ہے ۔ یہاں تک کہ بنگلہ دیش اور ایران بھی اس کے اتحاد سے نکل چکے ہیں ۔ معاشی طور پہ اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونے کے بعد پاکستان نے پورے اعتماد سے کھیلنا شروع کر دیا ہے اور اب کی بار پاکستان کا موڈ دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ ہے ۔ گزشتہ روز پاکستان نے سیاسی نقشہ جاری کر کے بھارت کو دکھا دیا ہے کہ وہ اب معذرت خواہانہ لہجے کی بجائے سفارتی محاذ پہ جارحانہ انداز میں بھارت سے لڑنے والا ہے ۔
موجودہ اقدامات اور خطے کی صورتحال سے ایسا لگ رہا ہے کہ ترکی ملائیشیا ، انڈونیشیا ، ایران اور پاکستان مل کر آگے بڑھنے والے ہیں اور یوں عرب ممالک کی امہ کی سربراہی کرنے کا خواب چکنا چور ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ پاکستان نے واضح موقف اپنایا ہے کہ پاکستان کا ساتھ دو یا نتائج کےلیے تیار ہو جاؤ ۔ اب معاشی لحاظ سے پاکستان اس پوزیشن میں آ چکا ہے کہ وہ عرب ممالک کا پریشر برداشت نہیں کرے گا ۔ سی پیک نے پاکستان اور چین کو اس قدر یکجا کر دیا ہے کہ ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ مجبوری بن گئی ہے ۔ چین اور روس کا امریکہ بلاک کے خلاف اکھٹا ہونا ایک اہم تاریخی موڑ ہے اور اس میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے ۔ ادھر افغانستان میں امریکہ کےلیے پاکستان کی حمایت انتہائی ضروری ہے ۔ یوں اس وقت پاکستان آسانی سے کریز سے باہر نکل کے کھیل سکتا ہے اور پاکستان نے بڑی دانشمندی سے کھیل کو پوری طرح اپنے حق میں استعمال کرنا شروع کر دیا ہے ۔ اس وقت بھارت سفارتی سطح پہ ایک کمزور پوزیشن پہ ہے ۔ دنیا کے کسی ملک نے بھی کشمیر پالیسی پہ اس کا ساتھ نہیں دیا ۔ حالات یہ ہیں کہ بھارت کے انتہائی اہم شارکت دار فرانس جس سے بھارت کے کئی دفاعی معاہدے ہیں اس نے بھی کشمیر مسئلے پہ بھارت کو جھنڈی کروا دی ۔ اگر پاکستان عرب ممالک کو بھی بھارت سے الگ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ بہت بڑی کامیابی ہو گی ۔۔ وقت کے ساتھ یہ بڑھتا ہوا پریشر بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور کرے گا ۔ ایک سال قبل آرٹیکل 370 کو ختم کرتے ہوئے بھارت نے یہ سوچا بھی نہیں ہو گا کہ پاکستان اتنی بڑی پلاننگ کرے گا ۔ ایسا لگ رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر اب زیادہ عرصہ نہیں چل پائے گا .

یہ بھی دیکھیں

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام مذہبی امور

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے