پیر 20 صفر 1443ﻫ - 27 ستمبر 2021

یوم سیدنا عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہ۔درویش سخی انسان کا صدیوں سے جاری کفالتی سلسلہ

اپنی کتاب عہد رسالت صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں نظام کفالت کے باب نمبر ٥” کفالت وسخاوت کے درخشاں نمونے” کے ایک صفحہ کا اقتباس اختصار کے ساتھ۔۔۔۔۔۔حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ بلاشبہ اپنے دور کے ارب پتی شخص تھے مگر ان کی دولت اسلام کے کام آئی۔ مسلمانوں کے کام آئی۔جہاد میں صرف ہوئی۔ معاشرہ کے نادار افراد پر خرچ ہوئی اور غرباء و مساکین کے حصے میں آئی۔ حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کی شہادت کے بعد ان کے ایک ساتھی نے کہا کہ میں یہ اندازہ نہیں کر سکتا کہ حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کی زندگی٨٣سال کے دنوں کی تعداد زیادہ ہے یا ان غلاموں کی تعداد زیادہ ہے جنہیں انہوں نے اپنی گرہ سے خرید کر اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کے لئے آزاد کیا تھا۔
غزوہ تبوک کے موقع پر مختلف انداز میں جو عطیات پیش کئے ،ان کی مجموعی کیفیت کچھ یوں بنتی ہے :
سونا تقریباً ساڑھے پانچ کلو ۔۔۔۔۔۔ بصورت ایک ہزار دینار
چاندی تقریباً ساڑھے اُنتیس کلو ۔۔۔۔۔۔ بصورت دو سو اوقیہ
نو سو اونٹ مع مہار،پالان، کجاوہ وغیرہ
ایک سو جنگی گھوڑے ۔
سرزمین ِطیبہ آج بھی سیدنا عثمان رضی اللّٰہ عنہ کی سخاوت وکفالت کی گواہی دے رہی ہے۔چودہ سو سال پہلے اُنہوں نے یہودی سے ایک کنواں خرید کر وقف کیا تھا ۔وہ کنواں اُس وقت سے پیاسے لوگوں کی کفالت کررہا ہے ۔ آج بھی وہ کنواں اس درویش سخی کے نام سے منسوب ہے ۔صرف یہی نہیں بلکہ اس زندہ دل انسان کے نام سے بینک میں اکاونٹ ہے ۔کنویں کے دائیں بائیں کھجوروں کا باغ ہے ۔ باغ کی آمدنی” عثمان بن عفان اکاؤنٹ ”میں جمع ہوتی ہے ۔ اس جمع ہونے والی آمدنی سے ایک رہائشی ہوٹل ” فندق عثمان بن عفان رضی اللّٰہ عنہ ” تعمیر ہوا ہے ۔ ہوٹل کی سالانہ آمدنی پچاس ملین ریال کے لگ بھگ ہے ۔اس کا آدھا حصہ غریبوں اور مسکینوں کی کفالت میں اور باقی آدھا حصہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللّٰہ عنہ کے بینک اکاؤنٹ میں جمع ہوتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے عظیم سخی و غنی انسان کے اس عمل کو اس قدر مقبولیت بخشی کہ قیامت تک ان کے لئے صدقہ جاریہ بنا دیا ۔(عہد رسالت صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں نظام کفالت ص٢٨٨۔٢٨٩)
اللّٰہ تعالیٰ نے اس عاجز کو متعدد بار سیدنا عثمان رضی اللّٰہ عنہ کی اس یادگارکی زیارت کی توفیق عطا فرمائی ،اس کی تفصیل ہماری کتاب نقوش پائے مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں ہے ۔اس کا اختصار تصاویر کے ساتھ قارئین کے لئے پیش خدمت ہے :
سیدناعثمان رضی اللّٰہ عنہ کی یہ یادگار آج بھی موجود ہے ۔زائرین مدینہ منورہ کے مقدس مقامات کی زیارت کے وقت اس کی زیارت کو بھی آتے ہیں ۔ اس کنویں کاپانی آج بھی صاف شفاف شکل میں موجود ہے ۔قریب ہی باغ اور مزرعہ ہے ۔ یہ باغ اور کنواں اوقاف حرم نبوی شریف کی تحویل میں ہیں ،جنہوں نے اسے وزارت زراعت وآبپاشی کوپٹے پر دیا ہواہے ۔محکمہ زراعت نے اس کو زراعتی تجربات کا سینٹر بنا رکھا ہے ۔مختلف انواع واقسام کے کھجوروں کے درختوں پر ریسرچ ہوتی ہے ۔قریب ہی ایک جانوروں کا ہسپتال بھی ہے ۔کنویں کے قدیم کھنڈرات اب بھی باقی ہیں ۔کنویں کا پانی صاف شفاف ،جاری ساری ہے ۔کنویں کے قریب ہی ایک خزان(حوض) ہے، جس میں پانی جمع کیا جاتا ہے ۔پھر نالیوں اور پائپوں کے ذریعے پورے مزرعے کو سیراب کیا جاتا ہے ۔ہم نے اس تاریخی کنویں پر حاضری دی ۔ کام کرنے والے مزدور کو کچھ ہدیہ دیا تو اُس نے خوش ہوکر مشین چلائی اور ہمیں کنویں کاپانی نوش کرنے اوراس پانی وضو کرنے کا موقع ہاتھ آگیا۔ کنویں کی منڈیرکے متصل پرانے زمانے کی کمرہ نما عمارت کے کھنڈرات بھی باقی ہیں ،جس میں اُتر کر قریب سے پانی بھراجاتا تھا ۔عموماً زیارتیں کروانے والے زائرین کومزرعہ سے باہر لگے بورڈ کی زیارت کروا کے واپس لے آتے ہیں ۔حالانکہ مرکزی دروازہ سے اندر جانے کا راستہ بھی ہے اور قریب جاکر کنویں کی زیارت کی جاسکتی ہے ۔ پانی بھی نوش کیا جاسکتا ہے ۔عصر کے بعد اگر زیارت کے لئے جائیں تو کوئی رش نہیں ہوتا۔

یہ بھی دیکھیں

فلسطین: امریکی کانگریس میں فلسطینی بچوں کی گرفتاریوں کی مذمت۔ 

فلسطین: امریکی کانگریس میں فلسطینی بچوں کی گرفتاریوں کی مذمت۔ بٹی میک کولم نے اسرائیلی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے