منگل 1 رمضان 1442ﻫ - 13 اپریل 2021

کاروباری طبقہ سخت نقصان سے دوچار

غیر قانونی طو ر پر بھارت کے زیر قبضہ جموںوکشمیر میں گزشتہ برس پانچ اگست سے انٹرنیٹ کی مسلسل بندش نے مقامی کاروباری طبقے کو بھاری نقصان سے دوچار کر دیا ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق نریندر مودی کی زیر قیادت فسطائی بھارتی حکومت نے پانچ اگست 2019کو غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر نے کے بعد علاقے میں تیز رفتار انٹرنیٹ سروس معطل کر دی تھی جو تاحال بحال نہیں کی گئی۔ تاجروں ، طلباءاور زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی اپیلوں کے باوجود تیز رفتار فور جی انٹرنیٹ سروس بحال نہیں کی گئی جبکہ ابھی بھی اسکی بحال کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا ۔ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی ) نے گزشتہ برس پانچ اگست کے بعد کشمیر کی معیشت کو مجموعی طور پر چار سو ارب روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا ہے جبکہ انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر سیاحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، باغبانی اور صحت کی دیکھ بال کے شعبے ہوئے ہیں۔ کے سی سی آئی کے صدرشیخ عاشق حسین نے کہا کہ تیز رفتار انٹر نیٹ کی بندش کے باعث جدید دور کے تمام کاروباروں کو نقصان پہنچا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کے سی سی آئی نے بھارتی حکومت کوفور جی انٹرنیٹ سروس کی بندش کے باعث کشمیر میں تاجروں کو پہنچنے والے نقصانات سے آگاہ کیا تھا لیکن اس نے کوئی توجہ نہیں دی۔ بھارت نے اپنے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں فور جی انٹرنیٹ سروس ایک برس سے معطل کررکھی ہے جبکہ بھارت کی کئی ریاستوں کے دارلحکومتوں میں پانچ جی انٹرنیٹ سروس شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ نئی دلی میں قائم ایک تھنک ٹینک ’ انٹرنیشنل کونسل برائے تحقیق برائے بین الاقوامی معاشی تعلقات“ کی طرف سے کی گئی ایک تحقیق میں کہا گیا کہ وادی میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے لوگ طرح طرح کے مسائل کا شکارہیں۔ وہ ذہنی مسائل سے بھی دوچار ہیں کیونکہ انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے باعث آن لائن طبی مشورے کرنے سے قاصر ہیں۔ رواں برس کے آغاز میں وبائی مرض کورونا کے باعث یہ مسئلہ اور بھی زیادہ سنگین ہو گیا اور انٹرنیٹ نہ ہونے کے سبب لوگوں کا ذہنی تناﺅ بڑھ گیا۔ کشمیری کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ فورجی انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے سبب وہ نہ تو موسم کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ رہ سکتے ہیں او ر نہ ہی کاشتکاری کی جدید فنیات کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ گزشتہ برس نومبر میں غیر معمولی برف باری کی وجہ سے انہیں سخت نقصان سے دوچار ہونا ہے کیونکہ انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے وہ اس برف باری کے بارے کوئی پیشگی معلومات نہیں رکھتے تھے ۔

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے