بدھ 25 ذوالحجہ 1442ﻫ - 4 اگست 2021

فرد جرم عائد ہونے کے بعد جج اور سابق صدر آصف زرداری میں ہوئی بحث

عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری پر پارک لین ریفرنس میں فرد جرم عائد کر دی
سابق صدر آصف علی زرداری نے عدالت میں صحت جرم سے انکار کر دیا،کہا تمام الزامات کو مسترد کرتاہوں ،فرد جرم عائد ہونے کے بعد آصف زرداری اور احتساب عدالت کے جج اعظم خان میں بحث ہوئی، آصف زرداری نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ لکھ دیں کہ وکیل سپریم کورٹ میں تھے پھر بھی آپ نے فرد جرم عائد کی،آپ رولنگ دے دیں کہ وکیل موجود نہیں تو آپ اپنا کیس خود لڑیں،
جج اعظم خان نے کہا کہ میں رولنگ دیدوں؟ کسی وکیل کو زبردستی عدالت نہیں بلا سکتا، آپ مجھ سے رولنگ نہ مانگیں جس پر آصف زرداری نے کہا کہ جب آپ کے سامنے پیش ہوا ہوں تو رولنگ بھی آپ سے مانگوں گا ،جج اعظم خان نے کہا کہ آصف علی زرداری آپ پاکستان کے صدر رہے ہیں،
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے فرنٹ کمپنی پارتھینن کے ذریعے غیر قانونی قرض لے کر فراڈ کیا؟ جس پر سابق صدر آصف زرداری نے جواب دیا کہ تمام الزامات مسترد کرتا ہوں آپ کراچی آ کر اس عمارت کو بھی دیکھ لیں،
واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے نیب کو پارک لین کے حوالہ سے جواب میں کہا تھا کہ پارک لین کمپنی 1989 میں صدرالدین ہاشوانی سے خریدی، اقبال میمن، کم عمر بلاول، رحمت اللہ، محمد یونس، الطاف حسین میرے شراکت دار تھے۔پارک لین کمپنی میں صرف 25 فیصد حصص کا مالک تھا، صدر بننے سے پہلے یکم ستمبر 2008 کو کمپنی ڈائریکٹرشپ سے مستفیٰ ہوا تھا
نیب کے مطابق آصف زرداری پارک لین کمپنی کے 25 فیصد شیئرہولڈررہے،آصف زرداری نے جعلی کمپنی پارتھینون بنا کر ڈیڑھ ارب قرض لیا، آصف زرداری اورساتھیوں کی کرپشن،منی لانڈرنگ ثابت ہوگئی

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے