جمعرات 16 صفر 1443ﻫ - 23 ستمبر 2021

اعلی پولیس افسر کے بیٹے کے ہاتھوں خیبرپختونخواہ پولیس پریشان۔ پولیس ذرائع

منشیات میں دھت فرزند آئی جی پی نئی گاڑیوں کا شوقین۔

سنٹرل پولیس آفس پشاور کے باخبر ذرائع کے مطابق آئی جی پی ڈاکٹر ثناء عباسی کی نام نہاد ایمانداری کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ ڈاکٹرعباسی نے کراچی میں تین تلوار چوک میں واقع اپنے سرکاری گھر کی سیکورٹی کے لیئے پختونخواہ پولیس کی دو کمانڈو پلاٹون بھیج دی ہیں۔ ظلم یہ ہے کہ ان پلاٹون کے نام پر دوسرے تیسرے روز ایک بڑی گاڑی راشن اور دیگر سازوسامان سمیت پشاور سے کراچی روانہ کی جاتی ہے جس پر صرف تیل ڈیزل کا ایک لاکھ روپے خرچہ آتا ہے حالانکہ اتنے پیسوں میں کمانڈو نفری کے لیئے پورے سال کا راشن آتا ہے۔ دراصل اس گاڑی میں دیگر سازو سامان بھی بھیجا جاتا ہے جو آئی جی پی کے مایہ ناز فرزند اور ہر قسم کا نشہ کرنے والے پولیس کے ارسلان افتخار کا کردارادا کرنے والے چہیتے بیٹے کی فرمائش ہوتی ہے۔ یہ فرمائیش پشاور اور ایک قریبی ضلع کے ڈی پی او پوری کرتے ہیں۔ آئی جی پی نے گزشتہ ایک عرصے سے اپنے بیٹے کو منشیات کی لعنت سے بچانے کے لیئے اپنے پاس بلایا تھا مگر اُس نے آتے ہی ایک سرکاری جیپ کو پسند کرکے ٹیلی کمیونیکیشن پولیس کے افسران کو حکم دیا کہ وہ اس گاڑی میں اس کی پسند اور مرضی کا سازوسامان فٹ کریں۔ سی پی او پشاور میں تعینات ایک اہم اعلی افسر نے بتایا کہ مذکورہ گاڑی کی آرائش پر ابھی تک پچیس لاکھ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ اعلی افسر نے بتایا کہ جو رویہ افتخار چوہدری اور اس کے بیٹے ارسلان افتخار کا تھا وہی رویہ ڈاکٹر عباسی اور ان کے بیٹے کا ہے۔ گریڈ بیس کے ایک اور اعلی افسر نے بتایا کہ پولیس کے اس ارسلان افتخار نے حال ہی میں ایک ڈی آئی جی سے ایک اعلی گاڑی کی فرمائیش بھی کی ہے جو وہ پوری کرنے سے قاصر ہے تاہم قبائیلی افسر نے اس خواہش کو پورا کرنے کی حامی بھری ہے۔ واضع رہے کہ آئی جی نے اپنے بیٹے کو منشیات سے بچانے کے لیئے تمام اپنے سیکورٹی پولیس گارڈز کے خون کا ٹیسٹ کیا ہے تاہم بعض گن مین اور ڈرائیور فرزند پولیس کو ہر قسم کی دوا بھاری مقدار میں پہنچاتے ہیں۔ مذید انکشافات کی توقع ہے۔

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے