جمعرات 16 صفر 1443ﻫ - 23 ستمبر 2021

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر کی ماڈل ٹاؤن میں پریس کانفرنس

‏مریم نواز کی پریس کانفرنس میں شاہد خاقان عباسی اور رانا ثنا اللہ موجود

‏شہباز شریف لاہور میں ہونے کے باوجود پریس کانفرنس میں شریک نہ ہوئے

‏لاہور سے منتخب ایاز صادق اور خواجہ سعد رفیق پریس کانفرنس سے غائب

‏خواجہ آصف اور احسن اقبال مریم نواز کی پیشی پر آئے نہ ہی پریس کانفرنس میں

‏پرویز رشید ،مریم اورنگزیب، طلال چودھری ،دانیال عزیز بھی پریس کانفرنس میں موجود

‏نیب نے پیسے کے ذریعے سیاسی جوڑ توڑ کی،مریم نواز

‏مجھ پر یہ تیسرا مقدمہ ہے۔ ‏میرے خلاف آج تک کوئی ریفرنس نہیں بنایاجاسکا۔ ‏پولیس یونیفارم میں لوگوں نےپتھرمارے۔  ‏مجھےواپس جانے کے لیے پیغام بھی آئے۔ ‏آج ریاستی خوف اور جبر کا مقابلہ کرکے آئی ہوں۔ ‏نیب دفتر کے باہر کارکنوں پر پتھر برسائےگئے۔ ‏پولیس کی شیلنگ اور پتھراوَ سے کارکنوں کو زخمی کیاگیا۔

‏اپنے کارکنوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔ ‏ہمیں نیب گردی کاسامنا ہے ۔ ‏نیب والوں نےدروازہ نہیں کھولا،چھپ کربیٹھےرہے۔ ‏میری گاڑی نیب دفتر کے قریب پہنچی تو اچانک آنسو گیس اور شیلنگ شروع ہوئی۔ ‏پتھر سے میری گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ‏نیب کال اپ نوٹس ایک روز قبل موصول ہوا۔

‏نیب نے اگر بلا ہی لیاتھاتو مجھے سن بھی لیتے ۔ ‏نیب کال اپ نوٹس کو الزام نہیں کہوں گی۔ ‏نیب کال اپ نوٹس کامقصد مجھے نقصان پہنچانا تھا۔ ‏کون لوگ تھے اور پتھر کہاں سے لائے تھے نہیں معلوم۔ ‏نیب کے کردارکا ہم سب کو پتہ ہے ۔ ‏سپریم کورٹ کے ججز کے نیب سے متعلق ریمارکس کا بھی سب کوعلم ہے۔

‏نیب کو سیاسی جوڑ توڑ کے لیے استعمال کیاجارہاہے۔ ‏نیب میں پیش نہ ہوناشایدقانون کی زیادہ پاسداری ہوگی۔ ‏نیب اب خود مطلوب ادارہ ہے ۔ ‏نیب کوجواب دیناہے ٹیکس کا پیسہ سیاسی انجینئرنگ میں کیوں استعمال کیا۔ ڈیڑھ سال گزرنے کےباوجود نیب نے تاحال کوئی ریفرنس دائر نہیں کیا۔

‏نیب تفتیش کے بجائے دیگر معاملات سے متعلق سوالات کرتی رہی۔ ‏مسلم لیگ کے خلاف ہر قسم کا رویہ اپنایا گیالیکن ہمارا گراف برقرار رہا۔ ‏عمران خان کو اقتدار میں آنے کا بہت شوق تھا۔ ‏پانامہ ،اقامہ اور سب کچھ ختم ہوگیا۔ ‏عمران خان کی حکومت نے بہت ظلم کیے۔ ‏عمران خان کی حکومت کو ہرمحاذ پر ناکامی کا سامنا ہے ۔

‏عمران خان کی حکومت کی اولین ترجیح نوازشریف نوازشریف ہے۔ ‏نوازشریف کی کوئی بھی تصویر سامنے آتی ہے تو ان کو تکلیف ہوتی ہے۔ ‏حکومت نے خود کو بچانےکے لیے نوازشریف کو باہر بھیجا۔ ‏آپ نے نوازشریف پر نہیں اپنے اوپر رحم کیا۔ ‏آپ خارجہ پالیسی سمیت ہر معاملے میں ناکام ہوئے ہیں۔

‏بنی گالہ کانام تبدیل کرکے چاغی رکھ دیتے ۔ ‏آپ نے نوازشریف کی صحت پر سیاست کی۔ ‏اگر آج ووٹ کو عزت مل جاتی تو پاکستان کے ساتھ یہ سلوک نہ ہوتا۔ ‏سب ایک بات پر متفق ہیں اور وہ ہے نواز شریف کی لیڈر شپ۔ ‏میرے لیے بولنا آسان ہے، خاموش رہنا مشکل ہے۔ سفارتی محاز پر حکومت بری طرح ناکام ہوئی۔ کشمیر بھارت کی جھولی میں جاگرا۔ نواز شریف کے منصوبوں پر اپنی تختیاں لگاتے ہو۔ آپکی حکومت بیساکھیوں پر چل رہی ہے۔

آپ کو ووٹ ڈالنے والے منہ چھپا رہے ہیں۔ ‏ہم نے خاموش رہ کر موجودہ حکومت کو زیادہ ایکسپوز کیا۔ ‏ہماری نیب کی پیشیاں بہت خاموش ہوا کرتی تھیں۔ ‏ہمارا کارکن تحریک انصاف کے کارکن کی طرح کا نہیں ہے،‏ہم سیاسی کارکن ہیں لوگ ہم سے محبت کرتے ہیں ،نواز شریف کی قیادت میں ملک کو نالائقوں سے نجات دلوائیں گے، عمران خان نے وزراء سے کہا تھا کہ 6 ماہ میں کارکردگی بہتر کریں،نواز شریف کی اے پی سے متعلق واضح ہدایت ہے،

نواز شریف نے کہا ہےکہ اےپی سی متفقہ فیصلہ ہونا چاہیے۔ نواز شریف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ تعاون کیا جائے، آئندہ کا لائحہ عمل لیڈر شپ کی مشاورت سے طے کریں گے۔  مولانا فضل الرحمن کے تحفظات دور کئے جائیں گے۔ ن لیگ میں لوگوں کی مختلف آراء ہوسکتی ہیں، بیانیہ ایک ہے۔ نواز شریف نے 72 سالوں میں وہ قربانیاں دی ہیں جو کسی اور لیڈر نے نہیں دی، نائب صدر مسلم لیگ ن مریم نواز

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے