ہفتہ 26 رمضان 1442ﻫ - 8 مئی 2021

خضدار میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران تیز اور موسلا دھار بارش سے جانی و مالی، اور قومی املاک کو نقصان

خضدار میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران تیز اور موسلا دھار بارش سے جانی و مالی، اور قومی املاک کو نقصان پہنچا ہے، خضدار رتوڈیرو شاہراہ سیلابی ریلے میں بہہ گیا، باغبانہ، وڈھ میں اموات ہوئی،مولہ میں سیاح پہاڑوں کے درمیان محصور ہوگئے، خضدارسٹی میں نشیبی علاقے زیر آب آگئے، کچی مکانات منہدم، وڈھ، مولہ، زہری، نال، گورو، گاج، خط کپر، وہیر،فیرو زآباد سارونہ سمیت دیگر علاقوں میں فصلات تباہ، مال مویشی اور مکانات پانی میں بہہ گئے، ڈپٹی کمشنر خضدار، اسسٹنٹ کمشنر خضدار کی نگرانی میں لیویز فورس کے جوانوں نے سیلابی ریلے میں پھنسے افراد کو ریسکیو کیا، ایدھی رضار بھی ضلعی انتظامیہ کے معاون بنے،۔ تفصیلات کے مطابق خضدار میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران تیز اور موسلا دھار بارشوں سے خضدار ضلع بھر سے نقصانات کی اطلاعات ملی ہیں، مسلسل بارشوں کی وجہ سے خضدار کے برساتی ندیوں میں طغیانی آگئی اور پانی کے بڑے ریلے آنے کی وجہ سے پانی شہروں میں داخل اور سڑکوں پر آگیا۔ جس کی وجہ سے خضدار رتوڈیر وشاہراہ پر بھلونک اور لاکھارو کے درمیان روڈ پانی میں بہہ گیا، بھلونک کے مقام پر گھاٹیوں کے درمیان گزرنے والی خضدار رتوڈیرو شاہراہ کا کافی حصہ پانی کی نظر ہوگیا، جب کہ لاکھاروں کے مقام پر دو چھوٹے پھاڑیوں کے درمیان لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے آمدو رفت معطل ہوگئی۔عینی شاہدین کے مطابق وہاں ڈیڈھ سو سے زائد لوگ پھنس گئے، کئی گاڑیاں اور موٹرسائیکل بھی آگے نہیں بڑھ سکے، ہفتہ کے روز لیویز فورس کے جوانوں نے پھنسے افراد کو ریسکیو کیا، اور لیویز فورس کے جوانوں نے اپنے کندھوں پر اٹھا کر ضعیف، مریض و دیگر افراد کو محفوظ مقام پر لے گئے اور اس کے بعد انہیں گاڑیوں میں شہر منتقل کردیاگیا، اسی طرح ایدھی کے رضاء کار بھی ضلعی انتظامیہ کے معاون بنے رہے اور انہوں نے بھی بھلونک سے کافی تعداد میں لوگوں کو ایدھی کی گاڑیوں میں شہر منتقل کردیا۔ خضدار کے سیاحتی مقام مولہ چٹوک سے آمدہ اطلاعات کے مطابق وہاں پر بڑے ندیوں میں پانی بہہ جانے کی وجہ سے مولہ کاراستہ منقطع ہوگیا اور ایک سو کے قریب سیاح وہاں پہنس گئے، جنہیں صوبائی حکومت کی ہدایت پر ریسکیو کرلیا گیا اور انہیں محفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا۔مولہ کے علاقے کنوو، منیالو، ہتاچی، میں پانی زرعی زمینوں میں داخل ہونے سے کئی اقسام کی کھڑی فصلات کو نقصان پہنچا ہے۔وڈھ میں رحمت اللہ نامی ایک شخص برساتی پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوگیا، جب کہ وڈھ میں ٹک میں چھوٹے پیمانے کے بندات ٹوٹنے سے پانی زرعی زمینوں میں داخل ہوگیا اور سینکڑوں ایکٹر پر مشتمل کھڑی فصلات کو نقصان پہنچا دیا، اسی طرح وڈھ کے علاقہ وہیر میں میں بھی کئی ایکٹر پر مشتمل فصلات کو برساتی پانی کی وجہ سے نقصان پہنچا وہاں سے کچی آبادی کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ملی ہیں۔ اسی طرح خضدار زیدی کے دور دراز علاقہ گاج سے آمدہ اطلاعات کے مطابق گاج میں کافی آبادی زیر آب آگیا ہے اورفصلات کو نقصان پہنچنے کے علاوہ مال مویشی بھی پانی میں بہہ گئے ہیں۔ زیدی میں فصلات زیر آب آگئے ہیں کچی آبادیوں کو نقصان پہنچا ہے، خضدار کے علاقہ گورو میں بھی کچے گھر منہدم ہوگئے ہیں اور پانی گھروں میں داخل ہوگیا، خضدار سٹی میں شاہوانی آباد سلطان آباد، گزگی، کھٹان، کھنڈ، جھالاوان کمپلیکس کے آس پاس کے علاقوں سمیت دیگر نشیبی علاقے زیر آب آگئے اور گزگی میں کچے گھر منہدم ہوگئے ہیں، خضدار میں واپڈا سے متصل پل بھی کافی متاثر ہواہے اور بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔ باغبانہ میں مختلف مقامات پر گھروں کی دیواریں گرنے کی اطلاعات ہیں، ایک جگہ گھر کی دیوار گرنے سے ایک خاتون جاں بحق اور دوسری جگہ بچہ زخمی ہوا ہے۔ تحصیل زہری کے مختلف علاقوں میں گھروں کی دیواریں اور گھر کی چھت گرے ہیں جبکہ وہاں پر مختلف علاقوں میں بارش کا پانی زرعی زمینوں میں داخل ہونے سے بڑے پیمانے پر فصلا ت کو نقصان پہنچا ہے۔دریں اثناء خضدار میں ڈپٹی کمشنر خضدار ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ، اسسٹنٹ کمشنر خضدار عبدالمجید سرپرہ اور ان کا پورا عملہ امدادی سامان پہنچانے، متاثرہ علاقوں کا جائزہ لینے اور پھنسے عوام کو ریسکیو کرنے کے لئے مسلسل محنت جاری رکھی اور چاک و چوبند رہے، علاوہ ازیں رکن بلوچستان اسمبلی میر یونس عزیز زہری کی ٹیم، بلوچستان عوامی پارٹی کے سینئر رہنماء سابق ڈسٹرکٹ چیئرمین خضدار آغا شکیل احمددرانی کی ٹیم، جھالاوان عوامی پینل کے نمائندہ فدا احمد قلندرانی اور ان کی ٹیم و دیگر نے مختلف متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور وہاں پر عوام کو حوصلہ دیا، بعض جگہوں پر امدادی سامان پہنچائے،پانی کے لئے اسپلوے بنائے۔

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے