اتوار 4 شوال 1442ﻫ - 16 مئی 2021

امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے پاکستانی قوم کی طرف سے متحدہ عرب امارات سے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی اپیل کردی۔

اسرائیل کو تسلیم کرنا بیت المقدس کی آزادی اور عالم اسلام کے اجتماعی موقف سے پیچھے ہٹنے کے مترادف ہے ۔سینیٹرسراج الحق
16اگست کو یوم فلسطین منانے کا اعلان
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے آئندہ انتخابات میں کامیابی کیلئے انتہائی مکاری سے متحدہ عرب امارات پر دباﺅ ڈال کر اسے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مجبور کردیا ہے ۔یہ معاہدہ ہمارے حکمرانوں کیلئے بھی ایک سبق ہے جو کشمیر پر ٹرمپ کی ثالثی پر راضی ہوگئے تھے ۔متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرکے گویا بیت المقدس کی آزادی سے دستبرداری کا اعلان کردیا ہے اور ان لاکھوں مجاہدین کے خون کو فراموش کردیا ہے جنہوں نے قبلہ اول کی آزادی کیلئے شہادتوں کے نذرانے پیش کئے۔یہ عربوں کیلئے ہی نہیں عالم اسلام کیلئے تباہی کا معاہدہ ہے جس سے امت کے اندر تفریق و تقسیم گہری ہوجائے گی۔عالم اسلام کیلئے آج موت کادن ہے۔متحدہ عرب امارت پہلا ملک ہے جس نے 1948کے بعد اسرائیل کی ناجائز ریاست کو تسلیم کیا۔ 16اگست اتوار کو یوم فلسطین منایاجائیگا۔ قوم سے اپیل کی ہے کہ فلسطین اور قبلہ اول کی آزادی اور فلسطینی مسلمانوںکے یکجہتی کے اظہار کیلئے ملک بھر میںریلیوں اور مظاہروں میں بھرپور شرکت کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
سینیٹر سراج الحق نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلا کر یو اے ای کو یہ فیصلہ واپس لینے پر مجبور کیا جائے ۔عالم اسلام کے اجتماعی ضمیر نے اس فیصلہ کو قبول نہیں کیا۔عالم اسلام کیلئے اس سے بڑا اور کوئی سانحہ نہیں ہوسکتا۔ آج امت مسلمہ سوگوار اور اسرائیل ،امریکہ اور بھارت میں خوشی کے شادیانے بجائے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں اور جب تک بیت القدس آزاد نہیں ہوجاتا ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت او آئی سی کا اجلاس طلب کر کے متحدہ عرب امارات پر زور دے کہ وہ ا ±مت مسلمہ کو تقسیم ہونے سے بچانے کے لیے اسرائیل سے معاہدے پر نظرثانی کرے۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ انتخاب جیتنے کے لیے امت مسلمہ پر شب خون مارا ہے، مگر انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ قبلہ اول، مسجد اقصیٰ اور سرزمین فلسطین سے مسلمان اور فلسطینی کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔ یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ مسجد اقصیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام اسراءو معراج ہے۔ اس پر اسرائیل کا ناجائز قبضہ ناقابل قبول ہے اورہمیشہ ناقابل قبول رہے گا۔ لہٰذا امت مسلمہ، پاکستانی عوام اور دنیاکاہر انصاف پسند انسان اس معاہدہ کو مسترد کرتا ہے۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے سفارتی تعلقات پوری مسلم دنیا اور خصوصاً عرب دنیا کے لیے بہت بڑا سانحہ ہے۔ متحدہ عرب امارات نے امریکی صدر کے دباو ¿ میں یہ فیصلہ کر کے لاکھوں فلسطینیوں کے خون اور ان کے مفادات سے بے وفائی کی ہے۔ جس سے خود عرب ممالک کے مفادات کو نقصان پہنچے گا۔ یہ امر باعث افسوس ہے کہ متحدہ عرب امارات قبلہ اول کی آزادی کے لیے جاری کوششوں کو سپورٹ کرنے کے بجائے اسرائیل سے ہاتھ ملا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یو اے ای کو اپنی کسی بھی سیاسی مصلحت یا عارضی مفادات کو دیکھنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے تھا کہ بالآخر اس کے اسلامی دنیا پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

یہ بھی دیکھیں

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام مذہبی امور

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے