اتوار 4 شوال 1442ﻫ - 16 مئی 2021

آرمی چیف کا آج دورہ سعودی عرب،لیکن سعودی فوجی اتحاد کے سربراہ جنرل راحیل شریف کہاں ہیں؟ تہلکہ مچ گیا

رپورٹ کے مطابق پاک سعودی تعلقات میں وزیر خارجہ کی جانب سے بیان کے بعد تناؤ آ گیا تھا جس میں کمی کے لئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ آج سعودی عرب جائیں گے اور سعودی حکام سے ملاقات کریں گے

پاک سعودی تعلقات کے حوالہ سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ سعودی عرب کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے،مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو پاکستان کی ضرورت ہے،پاکستان سعودی عرب کے حوالہ سے پالیسی تبدیل نہیں کرے گا البتہ تعلقات میں سرد مہری رہنے کا امکان ہے، آرمی چیف کا دورہ سعودی عرب تناؤ میں کمی کرنے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے،

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ آج سعودی عرب جائیں گے، سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف جو سعودی اتحادی فوج کے سربراہ ہیں وہ اسوقت پاکستان میں ہیں اور آج اسلام آباد میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی سے سابق آرمی چیف راحیل شریف کی ملاقات ہوئی ہے، یہ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان میں سعودی سفارت خانے کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کر کے بتایا گیا ہے کہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف اور سعودی سفیر نواف المالکی کے درمیان بہترین ماحول میں ملاقات ہوئی۔ اس دوران دونوں رہنماوں کے درمیان اچھے ماحول میں کئی اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا

اس ملاقات سے قبل سعودی سفیر نواف المالکی نے کچھ روز قبل ہی آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے بھی اہم ملاقات کی تھی۔ جس کے بعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ سعودی عرب طے پایا ہے،

قبل ازیں گزشتہ روز گورنر پنجاب چودھری سرور سے سعودی سفیر نواف بن سعید احمد المالکی نے ملاقات کی جس میں اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر گورنر پنجاب چودھری سرور کا کہنا تھا دونوں ممالک کے مثالی تعلقات 22 کروڑ پاکستانیوں کیلئے قابل فخر ہے، سعودیہ اور پاکستانی عوام کے دل ہمیشہ ایک ساتھ دھڑکتے ہیں، ہر مشکل وقت میں سعودی عرب پاکستان کیساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلتا ہے، دونوں ممالک کے عوام میں اخوت اور بھائی چارے کا مضبوط رشتہ ہے، پاکستان کی تعمیر و ترقی میں سعودی حکومت کا تعاون لائق تحسین ہے۔

سعودی سفیر نواف بن سعید احمد المالکی نے کہا پاکستان اور سعودی تعلقات دو بھائیوں جیسے ہیں، ہم پاکستان کو اپنا گھر سمجھتے ہیں اس کی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کرتے ہیں، پاکستان کو پہلے کبھی تنہا چھوڑا نہ ہی آئندہ چھوڑیں گے۔

مسلم لیگ ق کے رہنماؤن چودھری پرویز الٰہی ،سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اور طارق بشیر چیمہ سے سعودی سفیر کی ملاقات ہوئی ہے

ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا،سعودی سفیر نے چودھری برادران کو پاکستان کے یوم آزادی پر مبارکباد پیش کی،سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے،

مسلم لیگ ق کے سربراہ ،سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور پاکستان اسلامی بھائی چارے کے بندھن میں بندھے ہیں،سعودی عرب سے محبت اور عقیدت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے،شاہ سلمان اور محمد بن سلمان پاکستان کے مسائل سے آگاہ ہیں، پاکستانیوں کے دل مکہ ،مدینہ میں دھڑکتے ہیں، چودھری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ دنیا کی کوئی طاقت اس بھائی چارے کو کم نہیں کر سکتی،

قبل ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدارسے سعودی سفیر نواف بن سعید احمد المالکی کی ملاقات ہوئی ہے،سعودی سفیر نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو یوم آزادی کی مبارکباد دی،نواف بن سعید احمد المالکی نے یوم آزادی پر پاکستانی قوم کیلئے نیک خواہشات کا اظہارکیا،وزیر اعلیٰ پنجاب نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان کی صحت کیلئےنیک تمناؤں کا اظہارکیا

ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور،دوطرفہ تعلقات اور تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا،وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام سعودی عرب کے ساتھ دلی اور روحانی وابستگی رکھتے ہیں پاکستان کی تعمیرو ترقی میں سعودی حکومت کا تعاون لائق تحسین ہے،پاکستان سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے،

واضح رہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ کشمیر کے حوالہ سے اب سعودی عرب کو کھل کر بتانا ہو گا کہ وہ ہمارے ساتھ ہے یا نہین، وزیر خارجہ کے اس بیان کے بعد سعودی عرب کی جانب سے ادھار دی گئی رقم پاکستان نے واپس کی، جبکہ سعودی عرب نے پاکستان کو ادھار تیل دینے کے معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد تیل بند کر دیا

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیان کے بعد حکومت پر اپوزیشن رہنماؤں نے کڑی تنقید کی تھی، ‏پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے سعودی عربکے بارے میں بیان کو غیر زمہ دارانہ قرار دے دیا

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ہمیشہ کے دوست برادر ملک سعودی عرب کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ بیان افسوسناک، قابل مذمت اور قومی وملی مفادات کے منافی ہے،‏بدقسمتی سے موجودہ حکومت اپنی عاقبت نااندیشی سے پاکستان کو خارجہ میدان میں تنہائی کا شکار کر رہی ہے

سربراہ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب کو دھمکی دے کر احسان فراموشی کا مظاہرہ کیا۔شاہ محمود قریشی کا لہجہ وزیر خارجہ والا نہیں بلکہ گدی نشین والا تھا۔ وہ شائد سمجھتے ہیں کہ سب ممالک ان کے مرید ہیں۔ سعودی عرب تو ویسے بھی پیری مریدی کے دھندے کو نہیں مانتا۔ انہیں اگر سفارتی اخلاقیات کا لحاظ نہیں ہے تو وہ وزارت چھوڑیں گدی نشینی کریں جو ان کے خاندان کا کام ہے۔ انہیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہے کہ ان کے بیان نے ملک کو کتنا ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔

سوشل میڈیا پر سعودی عرب پر کافی تنقید کی جا رہی تھی جس کے بعد سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی، جس کے بعد گزشتہ روز خبر آئی کہ آرمی چیف 16 اگست کو سعودی عرب کا دورہ کریں گے،

یہ بھی دیکھیں

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام مذہبی امور

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے