اتوار 4 شوال 1442ﻫ - 16 مئی 2021

سینیٹر رحمان ملک کا شیرین مزاری کا وزیراعظم و وزارت خارجہ کے مابین کشمیر پالیسی پر اختلافات کی خبر پر اظہار تشویش اور سینیٹ میں کالنگ اٹینشن جمع کرنے کا فیصلہ

کشمیر پالیسی پر وزیراعظم ہاوس اور وزارت خارجہ کے مابین کشمیر پالسی پر اختلافات کے حوالے سے شیرین مزاری کا بیان قابل تشویش ہے۔ شیر مزاری حکومت کی سرکردہ وزیر ہیں جنکا بیان نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اب جب کشمیر نازک صورتحال سے گزر رہا ہے شیریں مزاری کے بیان سے قوم میں کشمیرپالیسی کے حوالے سے تشویش پیدا ہوگئی ہے۔

قوم جاننا چاہتی ہے کہ وزیراعظم ہاوس اور وزارت خارجہ کے مابین کونسے اختلافات ہیں جنکی وجہ سےکشمیر پالیسی پر عمل درآمد نہ ہوسکا۔ وزایراعظم پارلیمنٹ ہاؤس میں آکر وضاحت دے تاکہ کشمیر پالیسی پر عوام کے شکوک وشبہات دور کئے جا سکے۔ اس حوالے سے سینیٹ میں کالنگ اٹینشن جمع کر رہا ہوں کہ کشمیر پالیسی پر حکومت وضاحت پیش کرے۔

شروع دن سے حکومت کیطرف سے کشمیر پر سرد روئے کی بات کرتا آیا ہوں۔ مودی و بھارتی مظالم کیخلاف درجنوں خطوط اور دستاویزات بین الالقوامی اداروں اور حکومت کو ارسال کر چکا ہوں۔ حکومت کو کئی بار مودی کیخلاف بطور جنگی مجرم مقدمہ درج کرنے کا مشورہ دے چکا ہوں، سینیٹر رحمان ملک

یہ بھی دیکھیں

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام مذہبی امور

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے