اتوار 27 رمضان 1442ﻫ - 9 مئی 2021

لاہور ہائی کورٹ میں صدر نیشنل بنک اف پاکستان کے تقرری کے خلاف درخواست پر سماعت ۔۔۔

عدالت نے درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ۔

عدالت نے صدر نیشنل بنک عارف عثمان کو بھی نوٹس جاری کر دیے کہ وہ خود یا وکیل کے ذریعے اپنا موقف پیش کریں ۔

عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دییے کی ہدایت کر دی ۔

بادی النظر میں ایک سال 5 ماہ کی تقرری کے بعد درخواست دائر ہوئی ایسے میں درخواست کیسے قابل سماعت ہو گئ

بادی النظر میں صدر نیشنل بنک کا تقرر اسلام اباد سے ہوا ۔عدالت ۔

انکی تقرری کراچی کے لیے ہوئی ۔عدالت ۔

اس کورٹ کا دائرہ اختیار محدود ہے ۔وہ کیسے اس معاملہ میں مداخلت کر سکتے ہیں ۔عدالت ۔

بہتر ہے کہ درخواستگزار اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرے۔عدالت کی درخواست گزار کے وکیل کو ہدایت ۔

صدر نیشنل بنک کے لیے فنانس اور اکاونٹس میں ماسٹر ڈگری رکھنا ضروری ہے ۔وکیل درخواستگزار ۔

صدر نیشنل بنک عارف عثمان اس کوالیفیکیشن پر پورا نہین اترتے ۔وکیل درخواستگزار ۔

صدر نیشنل بنک صرف فزکس میں بیچلر ڈگری رکھتے ہیں ۔وکیل درخواستگزار

مسٹر جسٹس جواد حسن نے شہری نعیم اللہ آفریدی کی مفاد عامہ کی درخواست پر سماعت کی

عدالت صدر نیشنل بنک اف پاکستان کے صدر کی تقرری کالعدم قرار دے ۔ استدعا۔

عدالت نئے صدر نیشنل بنک کی تقرری قواعد و ضوابط کے تحت کرنے کا حکم دے استدعا

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے