منگل 24 ذوالحجہ 1442ﻫ - 3 اگست 2021

بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر وزیر توانائی سندھ امتیاز احمد شیخ کے وفاقی وزیر توانائی اور چیئرمین نیپرا کو مراسلے۔

کے الیکٹرک کو شوکاز نوٹس ملنے کے بعد بجائے یہ کہ لوڈ شیڈنگ میں کمی آتی، اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ بڑھ گئی ہے۔ امتیاز شیخ

کے الیکٹرک اب بھی 8 سے 12 گھنٹے روزانہ لوڈ شیڈنگ کررہی ہے ۔امتیاز شیخ ۔

کے الیکٹرک کو لوڈ شیڈنگ میں فوری کمی کی ہدایات کے ساتھ ساتھ بجلی کے مسئلے کے مستقل حل کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز کا وسیع البنیاد اجلاس بلا یا جائے۔امتیاز احمد شیخ۔

حیسکو سیپکو کے تحت آنے والے سندھ کے شہروں کو 12 سے 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔امتیاز شیخ۔

سندھ کے شہریوں کو لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات دلانے کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے اقدامات کیے جائیں۔امتیاز احمد شیخ۔

کراچی 17 اگست 2020
شدید گرمی اور حبس کے باوجود سندھ کے شہروں بالخصوص کراچی میں طویل وقفوں کی لوڈشیڈنگ پر وزیر توانائی سندھ امتیاز احمد شیخ نے وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب اور چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی کو لکھے گئے اپنے علیحدہ علیحدہ مراسلوں میں واضح کیا ہے کہ نیپرا کی عوامی سماعت کے بعد کے الیکٹرک کو نیپرا ایکٹ 1997 کی دفعہ 28 کے تحت شوکاز نوٹس دیئے جانے کے بعد بجائے یہ کہ کراچی میں لوڈشیڈنگ میں کمی آتی، اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہی دیکھنے میں آرہا ہے اور کراچی میں اب بھی نہ صرف یہ کہ 8 سے 12 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے بلکہ شدید گرمی اور حبس کے موسم میں رات میں بھی طویل وقفوں کی ازیت ناک لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کو بے حال کردیا ہے جس سے شہریوں کے احتجاج کا اندیشہ اور امن و امان کی صورتحال بگڑنے کا خدشہ ہے۔

اپنے مراسلے میں امتیاز احمد شیخ نے کہا ہے کہ کے الیکٹرک کو فوری طور پر لوڈشیڈنگ میں کمی کے احکامات دینے کے ساتھ ساتھ نیپرا حکام کو ہدایت دی جائے کہ وہ کراچی آکر لوڈ شیڈنگ کے مسائل کا از خود جائزہ لیں انہوں نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے بجلی کے شعبے سے وابستہ تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول کے الیکٹرک ، نیپرا ، بجلی کے شعبے کے ماہرین ، پاور ڈویژن اور سندھ حکومت کی اعلیٰ ترین سطح پر اجلاس بلا کر تجاویز و آراء کی روشنی میں مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے تاکہ کراچی کے شہری
لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نجات پاسکیں۔
اپنے ایک اور مراسلے وزیر توانائی سندھ نے وفاقی وزیر عمر ایوب کو حیسکو اور سیپکو کے دائرہ کار میں آنے والے سندھ کے دیگر شہروں میں 12 سے 18 گھنٹے تک کی طویل لوڈشیڈنگ کئے جانے اور ٹرانسفارمرز کی تنصیب نہ کئے جانے کی عوامی شکایات کا زکر کرتے ہوئے اس مسئلے کے حل کے لئے بھی ایک علیحدہ وسیع البنیاد اجلاس بلانے اور تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو مدعو کرنے اور مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے