اتوار 15 ذوالحجہ 1442ﻫ - 25 جولائی 2021

ہم اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کر سکتے جب تک فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں ملتا۔وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین امن معاہدے پر کہا ہے کہ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ ہم اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کر سکتے جب تک فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں ملتا۔

نجی چینل ‘دنیا نیوز’ کے پروگرام ‘دنیا کامران خان کے ساتھ’ میں اپنی حکومت کی 2 سالہ کارکردگی سے متعلق خصوصی انٹرویو میں وزیر اعظم نے کہا کہ ‘قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ فلسطینیوں کو حق ملے گا تو اسرائیل کو تسلیم کریں گے’۔

عمران خان نے کہا کہ اگر ہم اسرائیل کو تسلیم کرلیں تو مقبوضہ کشمیر کو بھی چھوڑ دینا ہوگا کیونکہ دونوں کا معاملہ یکساں ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطین کے بارے میں ہم نے اللہ کو جواب دینا ہے، میرا ضمیر کبھی بھی فلسطینیوں کو تنہا چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوگا۔

‘پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں کوئی کشیدگی نہیں ہے’
وزیر اعظم نے ان میڈیا رپورٹس کو مسترد کردیا جس میں کہا گیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں کشیدگی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہمارا مرکزی اتحادی سعودی عرب ہے جس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا’۔

عمران خان نے کہا کہ ہماری کوشش ہونی چاہے کہ مسلم ممالک کے مابین امن کا ماحول پیدا کرنے کے لیے جدوجہد کرتے رہیں

انہوں نے کہا کہ ‘سعودی عرب کی اپنی خارجہ پالیسی ہے، ہمیں ایسا نہیں سوچنا چاہیے کہ کیونکہ ہم ایسا چاہتے ہیں تو سعودی عرب کو بھی ایسا کرنا چاہیے’۔

‘اشرافیہ نے حکومت گرانے کی کوشش کی’
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں اشرافیہ کو قانون کے دائرہ کار میں لانے کے لیے اقدامات کیے تو انہوں نے حکومت گرانے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ ‘جب حکومت سنبھالی تو ایک سمت میں توجہ دینا ناممکن تھا کیونکہ تمام ادارے بحران سے دوچار تھے’۔

ہم قائد اور اقبال کے پاکستان کی جانب گامزن ہیں، وزیراعظم

ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان میں اشرافیہ کے پاس تمام مراعات ہیں جبکہ وہ ٹیکس بھی ادا نہیں کرتے، شوگر مافیا بنے ہوئے ہیں اور طبقات میں توازن برقرار رکھنے کے لیے احساس پروگرام لے کر آئے تاکہ نیم متوسطہ طبقہ بھی ترقی کرسکے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘بالکل اسی طرح چھوٹی صنعتیں متعدد چیلنجز سے دوچار ہیں جو دراصل ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہیں جبکہ بڑے صنعت کار اپنے اثر و رسوخ سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں’۔

عمران خان نے کہا کہ اشرافیہ طبقہ سمجھتا ہے کہ وہ قانون سے بالا تر ہے اور قانون کا اطلاق ان پر نہیں ہوتا اس لیے اشرافیہ کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے گزشتہ دو برس میں متعدد فیصلے کیے گئے جس کی وجہ سے بہت شور شرابا ہے۔

معیشت سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ‘میرے نزدیک تین بڑے چیلنجز ہیں جس میں پہلا 10 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا جس کا براہ راست معیشت پر منفی اثر تھا’۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم عمران خان نے پشاور بی آر ٹی منصوبے کا افتتاح کردیا

انہوں نے کہا کہ ‘اس کے نتیجے میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی ہوتی ہے تو بجلی مہنگی ہوجاتی ہے، مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے تو غریب آدمی پستا ہے’۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ‘گزشتہ 2 برس کی مشقت کے بعد کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو ایک بڑی کامیابی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ معیشت کے بعد پاکستان میں بڑا چیلنج توانائی کا ہے جس کی ایک بڑی وجہ سابق حکومت کے بجلی کے معاہدے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ اگر قرضوں کی قسطیں نہ دینی پڑے تو اپنے اخراجات کو کنٹرول کرکے ملک کو بہتر انداز میں چلا سکتے ہیں، قرضوں کی قسطوں کے لیے مزید قرضے لینے پڑتے ہیں۔

ملک میں توانائی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق حکومتوں نے مہنگے معاہدے کیے جس کی وجہ سے اب ملک میں بجلی مہنگی تیار ہو رہی ہے جبکہ عوام کو ‘سستی’ بیچ رہے ہیں یعنی ریٹ میں خسارہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر بجلی کی قیمت نہیں بڑھاتے تو گردشی قرضے بڑھ جاتے ہیں، بجلی مہنگی ہونے کا مطلب ہے کہ مقامی صنعت پر دباؤ ہوگا اور وہ بھارت اور بنگلہ دیش کے صنعتی شعبے کا مقابلہ نہیں کرسکے گی اور اگر صنعت کو سبسڈی دیتے ہیں تو خسارہ بڑھ جاتا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں مہنگی ترین بجلی بن رہی ہے اور یہ معاہدے سابق حکومتوں نے آئی پی پیز کے ساتھ کیے لیکن آئی پی پیز کے ساتھ حالیہ معاہدے پر ان شکریہ ادا کرتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر آئی پی پیز چاہتے تو ہمارے ساتھ از سر نو معاہدے نہیں کرتے اور عالمی عدالت میں پہنچ جاتے جہاں پاکستان کو ناکامی ہوتی کیونکہ سابقہ حکومتوں نے ان سے معاہدے کیے۔

‘کراچی کا مسئلہ لوکل گورنمٹ سسٹم کا نہ ہونا ہے’
عمران خان نے کراچی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے مسائل کو دیکھتا ہوں تو تکلیف ہوتی ہے اور کراچی کا مسئلہ لوکل گورنمنٹ سسٹم کا نہ ہونا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کی موجودہ حکومت کو دیہی سندھ سے ووٹ ملتا ہے اس لیے ان کی ساری توجہ ادھر منتقل ہوجاتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام مذہبی امور

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے