اتوار 4 شوال 1442ﻫ - 16 مئی 2021

لاہور ہائی کورٹ میں ایف آئی اے کا شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ کی روشنی میں جہانگیر ترین کی شوگر ملز کیخلاف تحقیقات کا معاملہ ۔

عدالت نے وفاقی حکومت سیکورٹی ایکسچینج کمیشن اف پاکستان ۔ایف آئی اے اور دیگر فریقین کو 14ستمبر کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ۔۔

عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے نوٹس پر عمل درآمد روکنے کی استدعا سے اتفاق نہیں کیا

مسٹر جسٹس وحید خان نے جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز کے کمپنی سیکرٹری سمیت دیگر افسران نے طلبی کے نوٹس کے خلاف درخواست پر سماعت کی ۔

درخواستگزار کی طرف سے سلیمان اکرم راجہ ایڈووکیٹ پیش ہوئے

درخواست میں ایس ای سی پی، وزارت داخلہ، مرزا شہزاد اکبر، واجد ضیاء سمیت دیگر فریق بنایا گیا ہے

وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے ایف آئی اے اور ایس ای سی پی کو شوگر انکوائری رپورٹ کی روشنی میں تحقیقات کرنے کا حکم دیا، موقف

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب نے شوگر مل کیخلاف تحقیقات 90 روز میں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے، درخواستگزار

شوگر انکوائری رپورٹ کیلئے نام نہاد جے آئی ٹی تشکیل دی گئی، موقف

چینی انکوائری تحقیقات کیلئے کارپوریٹ فراڈ کا بے بنیاد الزام عائد کیا گیا ہے، درخواستگزار

وفاقی کابینہ نے شوگر انکوائری رپورٹ کی روشنی میں شوگر ملز کیخلاف کارروائی کی منظوری دی، درخواستگزار

وفاقی کابینہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی فرد کو مجرم ٹھہرائے، موقف

وزیراعظم کے معاون خصوصی نے غیر قانونی طور پر ایف آئی اے اور ایس ای سی پی کو درخواست گزار کمپنی کیخلاف کارروائی کی ہدایت کی، موقف

سندھ ہائیکورٹ نے شوگر انکوائری رپورٹ پر شوگر ملز کیخلاف تحقیقات میں طلبی نوٹسز کو کالعدم کیا ہے، درخواست گزار

جے آئی ٹی کا جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز سے ریکارڈ طلبی کا نوٹس غیر قانونی ہے، موقف

کمپنیز ایکٹ 2017ء اور سکیورٹیز ایکٹ 2015ء کے تحت ایس ای سی پی کے ریفرنس پر ایف آئی اے تحقیقات کر سکتا ہے، درخواستگزار

ایس ای سی پی نے جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز کیخلاف کوئی ریفرنس ایف آئی اے کو نہیں بھجوایا، موقف

وفاقی حکومت کی ہدایت پر درخواستگزار کیخلاف ایف آئی اے کی تحقیقات غیر جانبدار نہیں ہو سکتیں، درخواستگزار

شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور نہ ہی اسکو بطور ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے، موقف

وفاقی حکومت نے کارپوریٹ فراڈ کے الزام میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا، درخواستگزار

شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ محض قیاس آرائیوں اور اندازوں پر مشتمل ہے، موقف

ایف آئی اے کا طلبی نوٹس جاری کرنا آرٹیکل 4، 5، 10اے اور 25 کیخلاف ورزی ہے، درخواست گزار

مرزا شہزاد اکبر کی ہدایات پر ایف آئی اے میں شروع کی گئی تحقیقات غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کی جائے، استدعا

وفاقی کابینہ کی طرف سے شوگر انکوائری رپورٹ کی روشنی میں تحقیقات کی منظوری غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کی جائے، استدعا

ایف آئی اے کی طرف سے جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز کے افسران کی طلبی کے نوٹسز کالعدم کئے جائیں، استدعا

درخواست کے حتمی فیصلے تک وفاقی حکومت اورایف آئی اے کے درخواستگزار کیخلاف تمام فیصلے اور نوٹس معطل کئے جائیں، استدعا

یہ بھی دیکھیں

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام مذہبی امور

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے