اتوار 3 ذوالقعدہ 1442ﻫ - 13 جون 2021

بنگلہ دیشیوں کے غدار شیخ مجیب الرحمن کے قاتل بنگلہ دیش آرمی کے لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ رشید چوہدری کی امریکہ سے ملک بدری کی مہم تیز ۔

بنگلہ دیشیوں کے غدار شیخ مجیب الرحمن کے قاتل بنگلہ دیش آرمی کے لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ رشید چوہدری کی امریکہ سے ملک بدری کی مہم تیز ۔وہ 1980 میں اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد بنگلہ دیش فارن سروس میں چلے گئے تھے اور 1996 میں شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی حسینہ واجد کے اقتدار میں آنے کے وقت برازیل میں سفارت کار تعینات تھے ۔جہاں سے وہ امریکہ آگئے تھے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق 8 سال تک مقدمہ چلنے کے بعد 2004ء میں عدالت نے ان کی سیاسی پناہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں امریکہ میں مستقل قیام کی اجازت دے دی تھی ۔ 15 اگست 1975 کو بنگلہ دیش فوج کے ایک گروہ نے شیخ مجیب الرحمن کے گھر پر حملہ کر کے ان کے خاندان کے تمام لوگوں کو قتل کردیا تھا اور جنرل ضیاء الرحمن نے ملک میں مارشل لا نافذ کردیا تھا ۔ان کی بیٹی شیخ حسینہ اس وقت جرمنی میں ہونے کی وجہ سے بچ گئی تھیں جنہوں نے بعد ازاں بھارت میں مستقل سکونت اختیار کرلی تھی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ واجد کی تربیت بھارتی خفیہ ایجنسی را نے کی ہے اور اقتدار حاصل کرنے میں بھی را کا بہت عمل دخل ہے اسی لیے شیخ حسینہ واجد پاکستان مخالف پالیسی اپنائے ہوئے ہے اور اکثر پاکستان کے خلاف زہر اگلتی رہتی ہیں ۔ 1971ء کے غدر میں بھارتی فوج اور مکتی باہنی کے خلاف پاکستان آرمی کا ساتھ دینے والے محب وطن بنگلہ دیشی لوگوں کا عدالتی قتل کیا جا رہا ہے ۔ لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ رشید چوہدری کو بھی ان کی غیر موجودگی میں 2009 میں سزائے موت سنائی گئی ہے جس کی توثیق بنگلہ دیش سپریم کورٹ نے بھی کر دی تھی ۔ جس کے بعد سے حسینہ واجد کی حکومت کئی بار امریکہ سے رشید چوہدری کو بنگلہ دیش کے حوالے کرنے کی سفارتی درخواست کر چکی ہے تاکہ اس کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا جا سکے جس پر کوئی توجہ نہیں کی گئی ۔ رشید چوہدری ‏‏‏سان فرانسیسکو کیلیفورنیا میں مقیم ہیں جہاں کے اٹارنی جنرل ولیم بار نے پندرہ سال بعد اس مقدمہ کو دوبارہ کھولنے کی عدالتی کاروائی شروع کر دی ہے ۔ جس میں امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو کی دلچسپی بھی دیکھنے میں آئی ہے ۔ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ عبدالمنان بھی اس میں ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں ۔ صدر اوبامہ کے دور حکومت میں بھی اس طرح کی درخواست کی گئی جس پر کوئی توجہ نہیں کی گئی اب کیونکہ بنگلہ دیش میں چینی سرمایہ کاری کے باعث اس کے کیمپ میں شامل ہے اور امریکہ کی خواہش ہے کہ وہ چین سے پیچھے ہٹ جائے ۔ صدر ٹرمپ اگر حسینہ واجد کو اس کے باپ کا قاتل حوالے کر دیتا ہے تو حسینہ واجد پر صدر ٹرمپ اور امریکہ کا یہ ذاتی احسان ہوگا ۔ قانونی ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک میں کسی کو سیاسی پناہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق دی جاتی ہے جس میں یہ ثابت کرنا ضروری ہوتا ہے کہ اس کی حکومت اسے ماورائے قانون سزا دینا چاہتی ہے اور اس کے اپنے ملک میں اس کی جان کو خطرہ ہے ۔ رشید چوہدری اپنی سیاسی پناہ کے مقدمہ کے دوران جج کے سامنے یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہے کہ وہ شیخ مجیب الرحمن کے گھر پر حملہ کرنے والے فوجی گروپ کے ساتھ شامل نہیں تھے بلکہ اس سے کچھ دور ایک ریڈیو سٹیشن پر کنٹرول حاصل کرنا ان کی ذمہ داریوں میں شامل تھا ۔ بنگلہ دیشی عدالت میں شیخ مجیب الرحمن کے گھر پر حملہ کرنے والے 12 فوجیوں میں شامل ایک فوجی افسر کے بیان پر انہیں شریک جرم قرار دیا گیا ہے ۔ بنگلہ دیش نے رشید چوہدری کی امریکہ بدری کے لیے اپنی سیاسی اور سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں ۔ امریکہ میں بنگلہ دیشی سفارت خانے اور قونصلیٹ نے بھی بنگلہ دیشی امریکن کمیونٹی میں شیخ حسینہ واجد کے حمایتیوں کو متحرک کر دیا ہے ۔زیر نظر تصویر نیویارک کے علاقے جیکسن ہائٹس کی ہے جہاں بنگلہ دیشی کمیونٹی اکثریت میں آباد ہے جمعرات 20 اگست کی شام ایک بنگلہ دیشی امریکن کمیونٹی اورگنائزیشن کے چند افراد نے شیخ رشید کی امریکہ بدری کے لیے مظاہرہ کیا ۔ مستقبل قریب میں ایسے مزید مظاہرے بھی دیکھنے میں آئیں گے ۔ کیا صدر ٹرمپ جو اس وقت اپنی صدارتی دوڑ میں مصروف ہیں وہ سیاسی اور قانونی طور پر اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت دی گئی سیاسی پناہ کو منسوخ کر سکتے ہیں اور ایسے کسی شخص کو اس اس ملک کے حوالے کر سکتے ہیں جہاں اس کی جان کو خطرہ ہے ۔۔۔؟

یہ بھی دیکھیں

ْقائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کی گرفتاری کو ایک ماہ مکمل ہونے پر ان کی بیٹی عائشہ حلیم عادل شیخ کا وڈیو پیغام۔ 

ْقائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کی گرفتاری کو ایک ماہ مکمل ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے