جمعرات 14 ذوالقعدہ 1442ﻫ - 24 جون 2021

پنجاب میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پنجاب پولیس کے پالیسی اقدامات حوصلہ افزا ہیں۔فیاض الحسن چوہان

وزیرِ اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے پنجاب میں جرائم کی بیخ کنی اور جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کے لیے بزدار حکومت اور پنجاب پولیس کے اقدامات کے حوالے سے اپنے آفس سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ پنجاب میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پنجاب پولیس کے پالیسی اقدامات حوصلہ افزا ہیں۔ پنجاب پولیس کی کارکردگی پر بات کرتے ہوۓ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال میں پنجاب پولیس نے منشیات کی ترسیل کے خاتمے کے لیے 494 بڑے گروہوں کی نشاندہی کی اور قانونی کاروائی کی. جوے کے 336 اڈوں کی شناخت اور 311 کے خلاف قانونی کاروائی مکمل کی۔ انہوں نے بتایا کہ معاشرے کا سکون برباد کرنے والے 300 بدمعاش افراد کے خلاف مقدمات کا اندراج کیا جا چکا ہے۔ فیاض الحسن چوہان نے مزید بتایا کہ پنجاب پولیس نے اب تک قبضہ مافیا کے چنگل سے 460 پراپرٹیاں واگزار کروائیں اور 1200 ملزمان گرفتار کیے۔معاشرے کو ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے 12000 ریڈز کی گئیں، 1200 سے زائد افراد کے اسلحہ لائسنس کینسل کیے گئے جبکہ 300 سے زائد اسلحہ ڈیلرز کی انسپکشن بھی کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ہوائی فائرنگ کے ذریعے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانے پر 560 سے زائد کیسز رجسٹر کیے گئے۔ پنجاب پولیس نے موبائل پولیس خدمت مراکز میں موصول ہونے والے 13 لاکھ سے زائد کیسز میں سے 7 لاکھ سے زائد پر کاروائیاں مکمل کیں۔ انہوں نے بتایا کہ تھانوں میں تشدد اور مار پیٹ کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ اس قبیح عمل کے خاتمے کے لیے حکومت نے تھانوں میں ایس ایچ اوز، فرنٹ ڈیسک اور حوالات میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب سے تھانہ کلچر کو تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب تک پنجاب میں 716 ایس ایچ اوز کی سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے۔ وزیرِ اطلاعات پنجاب نے مزید بتایا کہ پولیس کے اندرونی نظام کو بہتر بنانے کے لیے انسپکشن اینڈ ڈسپلن برانچ کا قیام خود احتسابی کی جانب اہم قدم ہے جبکہ پنجاب پولیس جرائم کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور آلات کو بھی بروۓ کار کا رہی ہے۔ لاہور کے دو داخلی مقامات پر نادرا، ایکسائز اور کریمنل ریکارڈ سے منسلک ای-چیک پوسٹوں کی تنصیب اسکی ایک مثال ہے۔ فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے تعاون سے پنجاب بھر میں پھیلے پکار 15 کے نظام کو ایک مربوط اور مرکزی نظام بنا دیا گیا ہے۔ صوبے میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے مری اور کرتارپور کے لیے بالترتیب 47 اور 100 پولیس کے جوانوں کی تربیت مکمل ہو چکی ہے۔ اس مثالی اقدام سے پاکستان میں سیاحت کو مزید فروغ ملے گا۔

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے