جمعرات 16 صفر 1443ﻫ - 23 ستمبر 2021

انٹرنیٹ کی مسلسل بندش سے کشمیری طلباء شدید مشکلات سے دوچار۔ 

انٹرنیٹ کی مسلسل بندش سے کشمیری طلباء شدید مشکلات سے دوچار۔

غیر قانونی طور پر بھارت کے زیرقبضہ جموں و کشمیر میں تیز رفتار انٹرنیٹ سروسز گزشتہ سال 5 اگست سے مسلسل معطل ہیں جس سے لوگوں بالخصوص طلباء ، صحافیوں اور کاروباری حضرات کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انٹرنیٹ کی بندش سے طلباء ، صحافی اور تاجر برادری بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ قابض حکام نے انٹرنیٹ سروسز 16 اگست 2020 کو جزوی طورپر بحال کردی تھیں تاہم فوری جی سروسز اب بھی بند ہیں۔ایک طالب علم ناصر حامد نے جو کشمیر یونیورسٹی سے جغرافیہ میں پوسٹ گریجویشن کی تعلیم حاصل کر رہا ہے ، بتایا کہ وہ گزشتہ ایک ماہ سے اپنی آن لائن کلاسوں میں شرکت نہیں کر پا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ جنوبی کشمیر کے طلباء کے لئے انٹرنیٹ ایک خواب بن کررہ گیا ہے۔ یہاں فوجی آپریشن شروع ہونے پر ہر بار انٹرنیٹ پہلے ہی بندکردیا جاتا ہے اور گزشتہ ایک ماہ سے ہمیں بہت نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہ انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے کے لئے میں اس شدید سردی میں دوسرے طلباء کے ہمراہ اپنے گاؤں سے 5 کلومیٹر طویل سفر کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں تعلیم کا حصول بہت مشکل ہے۔ایک اور طالب علم عدنان گیارہویں جماعت کے لئے آن لائن کورس کررہاہے کیونکہ وہ کشمیر میں آف لائن ٹیوشن کی فیس برداشت نہیں کرسکتا۔لیکن عدنان کو معلوم نہیں تھا کہ جنوبی کشمیر میں انٹرنیٹ کی مسلسل بندش ان کی آن لائن کلاسز میں رکاوٹ بنے گی۔انہوں نے کہاکہ میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہوں لیکن اپنے والد کے علاج پر بہت زیادہ رقم خرچ ہونے کے بعد میرے اہلخانہ میری ٹیوشن فیس برداشت نہیں کرسکتے۔ ضلع پلوامہ کے علاقے رحمو سے تعلق رکھنے والے عدنان نے بتایا کہ میں نے 11 ویں میں میڈیکل کا کورس کرنے کے لئے آن لائن پلیٹ فارم پر اندراج کرنے کا فیصلہ کیا جس پر تقریبا 3 ہزار روپے خرچ آتا ہے۔ مجھے امید تھی کہ میں باقاعدگی سے کلاس لوں گا لیکن جنوبی کشمیر میں انٹرنیٹ اکثر بند رہتاہے جس کی وجہ سے میں اپنی آن لائن کلاسوں سے محروم رہتا ہوں۔ایک فری لانس صحافی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ مجھے ایک فیلوشپ پروگرام کے لئے درخواست دینی تھی لیکن انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے میں اسے یہاں سے نہیں دے سکا۔ میں انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے کے لئے پلوامہ سے سرینگر گیا ۔انہوں نے کہاکہ اس صورتحال کی وجہ سے ہماری زندگی اجیرن بن چکی ہے۔اس حوالے سے ڈویژنل کمشنر پنڈورنگ پول نے صحافیوں کے سوالات اور پیغامات کا کوئی جواب نہیں دیا۔

یہ بھی دیکھیں

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام مذہبی امور

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے