جمعرات 16 صفر 1443ﻫ - 23 ستمبر 2021

سندھ ہائی کورٹ نے رواں ماہ تین پولیس مقابلے جعلی قرار دے دیے۔

سندھ ہائی کورٹ نے رواں ماہ تین پولیس مقابلے جعلی قرار دے دیے۔

صوبے بھر میں پولیس مقابلوں سے متعلق عدالت نئی گائیڈ لائنز جاری کردی۔ پولیس مقابلے کے ہر کیس میں دیکھا گیا ہے کہ ایف آئی آر میں پولیس موبائل انچارج کا نام نہیں ہوتا۔ پولیس موبائل کا ڈیوٹی پر موجود اسٹاف اور تھانے سے روانگی کا بھی درج نہیں ہوتا ہے۔ کس پولیس اہلکار کے پاس کونسا اسلحہ اور کتنی گولیاں ہیں انکا بھی اندراج ہونا چاہیے۔ بعض کیسز میں دیکھا گیا ہے کہ ملزمان کو لگنے والی گولیوں کےزخمی سرکاری اسلحہ کا نہیں ہوتا۔ ایف آئی آر میں دونوں جانب سے استعمال کئے گئے اسلحے کی بھی تفصیلات شامل ہونی چاہیے۔

تاکہ ماوارائے عدالت قتل کی روک تھام ہوسکے اور خود کو انکاوئنٹر اسپیشلسٹ کہنے والوں کو بھی۔ صوبے بھر کے ایس ایس پیز پولیس رولز پر سختی سے عمل درآمد کریں۔ پولیس مقابلے میں استعمال ہونے والا سرکاری اسلحہ بھی مقابلے کے بعد سیل کیا جائے۔ جائے وقوعہ سے ملنے والے خول بالا تاخیر فرانزک کے لئے بھیجا جائے۔ ملزمان جو گاڑی،موٹرسائیکل واردات میں استعمال کریں چالان میں اس کا بھی اندراج کیا جائے۔ انسداد دہشت گردی عدالتوں کے منتظم جج پولیس مقابلے کے کیسز کا چالان منظور کرنے سے پہلے تمام قوانین کا جائزہ لیں۔ چالان میں پولیس اہلکاروں میں اسلحے کی رجسٹریشن نہ ہو تو پولیس مقابلے کا چالان منظور نہ کیا جائے۔اگر تفتیشی افسر ملزمان کے زیر استعمال گاڑی کی ملکیت سے متعلق شواہد دینے میں ناکام رہے تو اس کا مطلب ہے مقابلہ مشکوک ہے۔ پولیس مقابلے میں استعمال ہونے والا سرکاری اسلحہ بھی ایف ایس کے لئے بھیجوایا جائے، عدالت

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے