جمعرات 16 صفر 1443ﻫ - 23 ستمبر 2021

پی ٹی آئی مرکزی رہنما حلیم عادل شیخ کی سندھ اسمبلی میں اہم پریس کانفرنس

پی ٹی آئی مرکزی رہنما حلیم عادل شیخ کی سندھ اسمبلی میں اہم پریس کانفرنس

کراچی : پی ٹی آئی مرکزی رہنما حلیم عادل شیخ کی سندھ اسمبلی کمیٹی روم میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کیا ان کے ہمراہ پی ٹی آئی ایم این اے کیپٹن جمیل، ایم این اے نصرت واحد، ایم پی اے شاہنواز جدون،سمیر میر شیخ، ساجد خان، رحمت خان و دیگر پی ٹی آئی رہنما بھی شریک تھے۔ حلیم عادل شیخ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا : اپوزیشن جماعتوں نے نیب کی 35 نکات میں ترمیم کا لکھ کر این آر او مانگا تھا، اگر ان نکات میں تبدیلی کی جاتی ہے تو اپوزیشن کی کرپشن کے سارے کیسز ختم ہوجاتے ۔ اپوزیشن نے نیب کی38 شقوں میں سے 34 شقوں پر ترامیم پیش کیں تھی کیا یہ کھلا این آر او نہیں مانگا گیا تھا؟۔پھر بھی یہ لوگ ڈٹائی سے کہتے ہیں کہ ہم نے این آر اور نہیں مانگا۔ پہلی تبدیلی اپوزیشن نےکہی کہ نیب کے قانون کی عملداری 1999 سے کی جائے۔ اس کا اصل فائدہ چودھری شوگرمل کیس والوں کا ہوتا، منی لانڈرنگ کو بھی بطور جرم نکالنے کا مطالبہ کیاگیا اگر ایسا ہوجاتا تو اس سے شہباز شریف، آصف زرداری اور فریال تالپور اپنے کیسز میں فائدہ اٹھاتے۔ اپوزیشن کی ترمیم تھی کہ ایک ارب روپے سے کم کی کرپشن پر نیب کارروائی نہیں کرے گا، یعنی 99 کروڑ کی کرپشن کرنا جائز ہو جس کی انکوائری آنٹی کرپشن کرے،؟ ان کی ترمیم تھی کہ نیب 2015 سے پہلے کے کرپشن کیسز کی تحقیقات نہیں کرے گا۔اس ترمیم سے پیپلزپارٹی اور ن لیگ کو این آر او پلس مل جاتا۔ کیا یہ کھلا این آر او نہیں تھا؟ ان کے مطابق ایک شق بےنامی کے متعلق تھی، اپوزیشن نے کہا بچوں اور اہلیہ کو باہر نکالا جائے۔ ایک ترمیم تھی کہ جب تک سپریم کورٹ کی طرف سے حکم نہ آئے ،نااہلی نہیں ہوگی۔ ایک غریب چوری کرے جیلوں میں سڑتا رہے یہ لوگ اربوں روپے چور کر کے بھی اسی عوام پر حکمرانی کریں۔

حلیم عادل شیخ نے مولانا فضل الرحمان کرپشن پر بات کرتے ہوئے کہا نیب نے مولانافضل الرحمان کی ملکیت جائیدادوں کاآمدن کاذریعہ پوچھتے تو کہتے این آر او نہیں مانگا، پی ڈی ایم پاپا، ڈیڈی، مولانا بچائو تحریک ہے علی بابا چالیس چوروں کا ٹولا ہے جس نے ملک کو لوٹا ہے۔ عوام جاننا چاہتی ہے کہ مولانا کے پاس ڈی آئی خان میں 64 کینال کی مختلف زمین خریدنے کا ذریعہ آمدن کہاں سے آیا، بیٹے کے نام خریدی گئی2کینال15مرلہ زرعی زمین کاذریعہ آمدن کہاں سے آیا ملتان کینٹ میں بیٹےکےنام5مرلہ زمین خریدنے کہاں سے پئسا آیا، دبئی میں گھر خریدا پئسا کہاں سے آیا۔مولانا چاہتے ہیں کہ مساجد اور مدارس کے بچوں کو اسلام آباد لاکر کوئی حادثا کرایا جائے تاکہ حکومت پر پریش پڑے اور انہیں رلیف مل سکے۔ایسا ہم ہونے نہیں دیں گے، مولانا اپنے ذاتی مقاصد میں کے لئے مسجد مدارس کو استعمال کر رہے ہیں۔ مجھے کسی نے کہا مولانا کے خلاف باتیں مت کریں ہر مسجد سے آپ کے خلاف باتیں آئیں گی۔ کیا مولانا کی کرپشن مولانا کے جھوٹ پر بات کرنا دین پر حملہ ہے؟ مولانا خود کو بچانے کے لئے تحریک میں شامل ہوئے ہیں۔

حلیم عادل شیخ سندھ حکومت کی بیوروکریسی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا سندھ کی بیورو کریسی میں موجود نیب زدہ 93 افسران کی فہرست دی گئی جن کو دبارہ تعینات کیا گیا ہے نیب سے پلی بارگین اور رقم کی رضا کارانہ واپسی والے افسران سندھ حکومت کے مختلف محکموں سے تعلق رکھتے ہیں رقم رضاکارانہ واپس کرنے والے افسران میں سیکریٹری فنانس سید نقوی ، سہیل بچانی و دیگر افسران شامل ہیں جو اس وقت بھی انے عہدوں پر ہیں۔ سید حسن نقوی گریڈ 20 میں تعینات تھے جنہوں نے 12 ملین سے زائد کی رقم نیب کو واپس کی ہے سیکریٹری فنانس ہیں۔ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ شاہ محکمہ فناس تو آ پکے پاس ہے پھر یہ کیسا ہوا؟ کس طرح آپ نے سندھ میں عوام کے اربوں روپے لوٹنے والے 450 سے زائد لوگوں کو دوبارہ کرپشن کرنے کے لئے لگایا ہوا ہے۔ دوسرا نام گریڈ 20 کے سہیل بچانی کا ہے جنہوں نے آر بی او ڈی میں کرپشن کی ہے گریڈ 20 کےایری گیشن چیف انجینئرسکھر سید سردار علی شاہ بھی شامل ہیں، گریڈ 19 کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ایل بی او ڈی ظہور احمد میمن بھی رقم رضا کارانہ واپس کی ہے، غلام مجتبی دھامرا،حبیب الرحمان شیخ،سید زاہد حسین شاہ،قادر بخش رند شامل ہیں، جنہوں نے عوام کو پئسا لوٹآ گریڈ 18 کے سیکریٹری ایل ڈی اے شاہنواز خان نے ڈسٹرکٹ ٹھٹہ کے فنڈز میں کرپشن کی عوام کا پئسا لوٹا سلیم بلوچ ڈپٹی سکریٹری لیبر اینڈ ہیومن ریسورس ڈی سی جامشورو کی حیثیت سے کرپشن کی جبکہ گریڈ 18 کے دیگر افسران میں غلام محمود کوریجو،محمد محبوب،احسان علی جمالی،آصف رحیم شامل ہیں، گریڈ 18کے افسران میں بشیر علی جمانی،حیدر علی خواجہ،غلام اکبر علی لاشاری حضور بخش عبدالواحد گریڈ 17 کے افسران میں امان اللہ قریشی،اختر حسین تالپور،عبدالجبار عباسی،عبدالستار کھوسو شامل ہیں، شہید بے نظیر آباد فوڈ ریجن کے چھ افسران کو نوکری سے برخاست کیا گیا ہے، ڈسٹرکٹ سکھر ریجن کے افسران نے نیب سے پلی بارگین اور رقم کی رضا کارانہ واپس کرنے والوں میں شامل ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے نام چیف سیکریٹری نے سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرائے ہیں۔ ان کے علاقہ کیا محکمہ ہیلتھ، ایجوکیشن لوکل گورنمنٹ کے کسی افسر نے نیب سے پلے بارگین نہیں کی؟؟ ان کے نام کیوں شامل نہیں کئے گئے 450 سے زائد لوگوں نے نیب سے پلے بارگین کی ہے۔ جن کو چھپایا گیا ہے۔ مراد علی شاہ صاحب آنے سندھ کی عوام کے پئسے پر ڈاکا ڈالا ہے، ان چوروں کو دبارہ آپ نے چوری کرنے پر لگایا ہوا ہے کیا یہ طرز حکمرانی ہے چوری کروں پھر کرپشن کرنے کے لئے لگا دیئے جائو؟۔نیب نے سندھ کے 35 ارب ہڑپ ہونےوالے ریکور کرا کے سندھ حکومت کو دیئے جس میں 23 ارب کیش اور 12 ارب کے غیر قانونی الاٹ شدہ پلاٹ شامل ہیں۔22 کروڑ سے زائد رقم چیف سیکریٹری کے حوالے کی گئی۔ یہ رقم روشن سندھ پروگرام کیس میں ریکوری کی مد میں حاصل کی گئی تھی، سندھ روشن پروگرام کے حوالے سے 19 کنٹریکٹرز نے رقم جعلی اکاؤنٹس میں جمع کرائی تھی۔ نیب کے مطابق ودود انجئینرنگ، ایم جے بی کنسٹرکشن اور ظفر انٹرپرائزز کو غیر قانونی ٹھیکے دیے گئے تھے، 22.3 ملین پراجیکٹ میں سرکاری افسران کو کک بیکس کی مد میں دیےگئے تھے، شرجیل میمن نے مبینہ طور پر 77 ملین وصول کیے جو جعلی اکاؤنٹس میں جمع کرائے گئے۔ ملزمان سے پلی بارگین کی مد میں 305 ملین روپے کی رقم ریکور کی گئی، نیب اراضی کی مد میں بھی اب تک 11.6 ارب روپے ریکور کر چکا ہے۔ سندھ میں شوگر اسکینڈل کی مد میں 10 ارب کی رقم برآمد کی گئی ہے، جعلی اکاؤنٹس کیس میں اب تک 23 بلین کی رقم ریکور کی جا چکی ہے، 50 کروڑ مالیت کے 2 پلاٹ بھی سندھ حکومت کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔ ایک ارب کی 300 ایکڑ اراضی بھی سندھ حکومت کو دی جا چکی ہے، پی ایس او اسکینڈل میں بھی کامران افتخار کی جانب سے 1.27 ارب کی پلی بارگین کی درخواست کی گئی جسے عدالت نے منظور کر لیا ہے۔ سندھ میں گندم چوری اسکینڈل میں نیب سکھر نے 10 ارب روپے سے زائد کی رقم وصولی کر کے جمع کرادی ہے۔

حلیم عادل شیخ نے مزید کہا پی ڈی ایم کے جلسوں کے بعد کرونا کیسز میں اضافہ ہوا ہے پی ڈی ایم تحریک عوام دشمن تحریک ثابت ہوئی ہے۔سیاسی جلسوں کے مخالف نہیں ہیں لیکن ایسے حالات میں جلسے کرنا مناسب نہیں ہیں کرونا کے سب سے زیادہ مثبت کیسسز کی شرح کراچی میں 21.80 فیصد ہے. حیدر آباد 19.03 فیصد مثبت کورونا کیسسز کیساتھ دوسرے نمبر پر ہے،جبکہ ملک بھر میں مثبت کیسسز کی شرح 7.78 فیصد ہے.کرونا کے خلاف صوبائی حکومت کی نااہلی ہے یا کرونا پرگندی سیاست، پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت سب سے اگے ہے.بلاول جس طرح صبح شام میڈیا پراپنےوالد اور پارٹی کی کرپشن بچاؤ مہم پر لگے ہیں اس سے آدھی توجہ اگر سندھ پر دیتے تو اج سندھ کےعوام یوں بے یارومددگار نہ ہوتے۔

یہ بھی دیکھیں

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام مذہبی امور

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے