جمعرات 16 صفر 1443ﻫ - 23 ستمبر 2021

سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہزاروں غیر متعلقہ افراد کو اسلحہ لائسنس جاری کر کے ذاتی ملیشیا بنانے جارہی ہے، حلیم عادل شیخ

سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہزاروں غیر متعلقہ افراد کو اسلحہ لائسنس جاری کر کے ذاتی ملیشیا بنانے جارہی ہے۔ ماضی میں گینگ وار کےافراد کو لاکھوں لائسنس دیکر شہر میں قتل و غارت کروا کر امن امان کی صورتحال خراب کرائی گئی۔ سندھ کسی کی ذاتی جاگیر نہیں بننے دیں گے ہوم ڈپارمنٹ 2018 سے آج تک اسلح لائسنس کی تفصیلات فراہم کرے، حلیم عادل شیخ

پی ٹی آئی پارلیمانی لیڈر و مرکزی رہنماحلیم عادل شیخ نے ہوم ڈپارٹمنٹ کو باضابطہ خط لکھ کر تفصیلات مانگ لی

کراچی: سندھ میں پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کی جانب سے غیر متعلقہ افراد کو ہزاروں اسلح لائسنس کے اجراء پر پی ٹی آئی مرکزی رہنما حلیم عادل شیخ نے ہوم ڈپارٹمنٹ کو خط لکھ کر اسلحہ لائسنس کی تفصیلات مانگ لیں۔ جاری کردہ وڈیو بیان میں حلیم عادل شیخ نے کہا سندھ حکومت کی جانب سے ہزاروں غیر متعلقہ افراد کو بغیر کسی تصدیق کے اسلح لائسنس جاری کیئے گئے ہیں۔ 2018 سے لیکر آج تمام تمام تفصیلات فرہام کی جائیں۔ حلیم عادل شییخ نے وڈیو بیان میں کہا اس پہلے بھی سندھ حکومت نے لیاری گینگ وار کے لوگوں کو لاکھوں اسلح لائسنس جاری کئے تھے۔ لیاری گینگ وار کو یہ لائسنس ٹارگیٹ کلنگ اور خانہ جنگی امن امان کی صورتحال خراب کرنے کے لئے دئیے گئے تھیے ۔ اس وقت پیپلزپارٹی سندھ کو اپنی جاگیر سمجھر کر اپنی ذاتی ملیشیا بنانا چاہتی ہے۔عام شہریوں میں خوف پایا جارہا ہے کہ پ پ اپنے منتخب اور غیر منتخب افراد کے زریعے بغیر فارملیٹی پوری کئے لائسنس کا اجراء کر رہی ہے۔ وزیر اعلی سندھ کا قلم جس دلیری سے اسلح لائنس کے اجراء پر چلتا ہے شاید یہ قلم شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے پر بھی چلتا تو آج سندھ کے حالات انتے خراب نہ ہوتے۔ حلیم عادل شیخ نے کہا پ پ کے غیر منتخب شخص یوتھ ونگ کے صدر کو 218 لائسنس جاری کئے جس کے کاغذات ہم نے نکالے ہیں۔ یہ شخص پ پ کی کرمنل ونگ کو ہیڈ کرتا ہے مزید ہزاروں لائنس جاری کئے ہونگے جس کی تفصیلات مانگ رہے ہیں۔ ۔پیپلزپارٹی کی ایک ایم پی اے صاحبہ نے بھی اس بہتی گنگا سے ہاتھ دھوئے ہیں۔ یہ ہزاروں لائسنس ناجانے کس کے دیئے جارہی یا دکانداروں کو بیچے جارہے ہیں۔ وزیر اعلی سندھ نے پیپلزپارٹی کے اراکین و پارٹی کے لوگوں کو ہزاروں اسلحہ لائسنس جاری کئے ہیں۔ایک ایک شخص کے نام پر سات سات لائسنس بھی جاری کئے گئے ہیں۔یقینا یہ لائسنس سندھ میں افرا تفری کے لئے استعمال کئے جانے ہیں۔2007 میں 27 دسمبر بھی ہم نے دیکھا 12مئی کو بھی دیکھا کس طرح شہر میں امن امان کی صورتحال خراب کی گئی۔ 27 دسمبر کو پیپلزپارٹی اصل لوگ سوگ میں تھے انکےکرنمنل لوگوں نے حالات خراب کئے۔ کراچی میں اسلحہ کی بڑی بڑی کھیپ پکڑی گئی جس کے بھی بعد میں لائسنس پیش کئے گئے۔ آج بحیثیت پارلیمانی لیڈر میں نے ہوم ڈپارٹمنٹ سندھ کو خط لکھا ہے۔ معلومات حاصل کرنا ہمارا حق ہے ورنہ رائٹ ٹو انفارمیشن کے تحت بھی تفصیلات معلوم کر سکتے ہیں ہوم ڈپارٹمنٹ ہمیں بتائی 2018 سے آج تک کتنے لائسنس کا اجراء کیا گیا۔ ان تمام افراد کی معلومات فراہم کیا جائے کیا تمام فارملیٹیز پوری کی گئیں یا نہیں؟ ہم اعلیٰ عدلیہ و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپیل کرتا ہوں اس کا نوٹس لیں اور تمام تر صورتحال کا جائزہ لیں۔

یہ بھی دیکھیں

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام مذہبی امور

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے