منگل 12 ذوالقعدہ 1442ﻫ - 22 جون 2021

سندھ ہائیکورٹ: ساڑھے گیارہ کروڑ پاکستانیوں کا حساس ڈیٹا چوری ہونے سے متعلق درخواست کی سماعت۔ 


سندھ ہائیکورٹ: ساڑھے گیارہ کروڑ پاکستانیوں کا حساس ڈیٹا چوری ہونے سے متعلق درخواست کی سماعت۔ پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن سے متعلق قانون سازی مکمل نہ کرنے پر عدالت برہم۔

جب اپنے لیے قانون سازی کرنی ہوتو فوراً کرلیا تھا۔ وفاقی اور صوبائی حکومت اپنے لیے مفاد کے لیے تو قانون سازی کرلیتے ہیں مگر عوام نہین سوچا جارہا۔ پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن کا معاملہ انتہائی اہم اور سنجیدہ ہے۔ پورے ملک کے لیے اہمیت کے حامل معاملے پر اب تک قانون سازی کیوں نہیں ہوئی؟ دوسرے ممالک میں قوانین موجود ہیں پاکستان میں کیا مسئلہ ہے؟ عدالت

عدالت نے جلد پرسنل ڈیٹا پروٹکشن سے قانون سازی کی ہدایت کردی۔ عدالت نے وفاقی حکومت سے 20 اپریل تک پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔

منسٹری آف انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اپنا جواب موصول نہیں۔ ڈیٹا پروٹیکشن بل مشاورت کے لئے وزارت قانون و انصاف کو بھیجوادیا گیا ہے ،اسسٹینٹ اٹارنی جنرل

ڈیٹا پروٹکشن سے متعلق قانون سازی کرنی ہے تو دیر کس چیز پر کی جارہی ہے؟ یہ ملک کے مفاد کا معاملہ ہے قوانین جلد بنائیں جائیں،جسٹس محمد علی مظہر

یہ بھی دیکھیں

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام مذہبی امور

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے